Main Icon

باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6021

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتّٰى أَكْتُبَ كِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنّٰى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ: أَنَا وَلَا وَيَأْبَى اللّٰهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ «. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي» كِتَابِ الْحميدِي ": «أَنا أولى» بدل «أَنا وَلَا»

وعن عائشة قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه: ادعي لي أبا بكر أباك وأخاك حتى أكتب كتابا فإني أخاف أن يتمنى متمن ويقول قائل: أنا ولا ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر «. رواه مسلم وفي» كتاب الحميدي ": «أنا أولى» بدل «أنا ولا»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض میں فرمایا کہ میرے پاس اپنے والد ابوبکر کو اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں ۱؎کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے یا کہنے والا کہے کہ میں ۲؎لیکن نہیں اللہ اور مؤمنین ابوبکر کے سوا کو منع کردیں گے۳؎(مسلم)اور کتاب حمیدی میں بجائےانا ولاکےانا اولیٰہے۔

شرح حدیث

۱∞؎بھائی سے مراد حضرت عبدالرحمن ابن ابوبکر الصدیق ہیں جیساکہ بعض روایات میں ہے،بھائی کو بلانا وصیت نامہ لکھانے کے لیے تھا۔(مرقات و اشعہ)کتاب سے مراد خلافت نامہ ہے۔اس ارادہ فرمانے سے معلوم ہوا کہ سلطان اسلام اپنا خلیفہ کسی کو بناسکتا ہے ورنہ حضور انور اس کا ارادہ نہ کرتے لہذا حضرت ابوبکر صدیق کا جناب عمر کو اپنا جانشین خلیفہ مقرر فرمادینا بالکل درست ہوا۔خیال رہے کہ حضور انور نے تحریری طور پر حضرت صدیق کو خلیفہ نہ بنایا مگر عملی خلیفہ بنادیا کہ حج وداع سے پہلے حج کا امیر اور وفات کے وقت مسجد نبوی شریف کا امام جناب صدیق کو بنادیا یہ عملی طور پر ولی عہد بنانا تھا۔
۲
؎یعنی کوئی یہ نہ کہے کہ خلیفہ رسول اللہ میں ہوں حالانکہ ابوبکر کے ہوتے کسی کو خلافت کا حق نہیں۔ولاکے بعد ایک عبارت پوشیدہ ہے یعنیولا یکون کذلك۔
۳
؎یعنی نہ تو اللہ تعالٰی کسی اور دوسرے کی خلافت پسند فرمائے گا کیونکہ وہ فیصلہ فرماچکا ہے کہ خلیفہ رسول جناب صدیق اکبر ہوں اور نہ مسلمان کسی اور کو ووٹ دیں گے کیونکہ ان سب کو معلوم ہے کہ افضل خلیفہ ہونا چاہیے اور بعد رسول افضل خلق حضرت صدیق اکبر ہی ہیں اور ایسا ہی ہوا کہ سعد ابن عبادہ نے خلیفہ ہونے کی تمنا بلکہ کوشش کی مگر مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ جناب صدیق اکبر کی خلافت پر ہوا،وفات کے وقت جو حضور نے کاغذ و قلم منگایا تھا شاید حضرت صدیق اکبر کے لیے خلافت لکھنا چاہتے تھے حضور انور کے خلافت نامہ نہ لکھنے میں بھی آئندہ مسلمانوں کو تعلیم تھی کہ خلیفہ کا چناؤ اس طرح بھی ہوسکتا ہے یعنی ووٹ کے ذریعہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6021