Main Icon

باب : گرہن کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1492

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فصَلّٰى بهم فَقَرَأَ بِسُورَة مِنَ الطِّوَلِ وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنَ الطِّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتّٰى انْجَلٰى كُسُوفُهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن أبي بن كعب قال: انكسفت الشمس علی عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بهم فقرأ بسورة من الطول وركع خمس ركعات وسجد سجدتين ثم قام الثانية فقرأ بسورة من الطول ثم ركع خمس ركعات وسجد سجدتين ثم جلس كما هو مستقبل القبلة يدعو حتى انجلى كسوفها. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گھہ گیا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی طوال کی کوئی سورۃ پڑھی ۱∞؎اور پانچ رکوع کیئے اور دوسجدے پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے توطوال کی کوئی سورت پڑھی پھر پانچ رکوع کیئے اور دو سجدے پھر جیسے تھے ویسے ہی قبلے کو منہ کیے بیٹھے بیٹھے دعا مانگتے رہے حتی کہ اس کاگرہن کھل گیا۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎سورۂ حجرات سے بروج تک کی سورتیں طوال یا طول کہلاتی ہیں،حضرت اُبی ابن کعب کا یہ فرمانا اندازے سےہے نہ کہ سن کر اسی لیے آپ نے سورۃ کانام نہیں لیا۔حضورصلی الله علیہ وسلم کی قرأت تو آہستہ تھی جیساکہ پہلےگزر چکا،یعنی اتنی لمبی رکعت ادا کی کہ شایدطوال کی سورۃ پڑھی۔۲؎اس حدیث میں فی رکعت پانچ رکوع ثابت ہوئے۔چار،تین،دو،ایک کی روایتیں گزرچکیں۔ان احادیث میں مطابقت ناممکن ہے اسی لیے ایک رکوع کی روایت قابل عمل ہے۔خیال رہے کہ نمازگرہن کے بعد دعا مانگنابھی سنت ہے،بیٹھ کر مانگے یا کھڑے ہوکر قبلہ رو ہویا قوم کی طرف رخ کرے،امام دعا مانگے لوگآمینکہیں گے،کھڑے ہوکر دعا مانگے،لاٹھی یا کمان پر ٹیک لگانا بہترہے۔(فتح القدیر وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1492