Main Icon

باب : گرہن کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1483

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَتْ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: “إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهٖ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذٰلِكَ فَادْعُوا اللهَ وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا” ثُمَّ قَالَ: “يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهٗ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهٗ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة نحو حديث ابن عباس وقالت: ثم سجد فأطال السجود ثم انصرف وقد انجلت الشمس فخطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: “إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت أحد ولا لحياته فإذا رأيتم ذلك فادعوا الله وكبروا وصلوا وتصدقوا” ثم قال: “يا أمة محمد والله ما من أحد أغير من الله أن يزني عبده أو تزني أمته يا أمة محمد والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عائشہ سےحضرت ابن عباس کی مثل ام المؤمنین نے فرمایا کہ پھرسجدہ کیا تو دراز کیا پھر فارغ ہوئے جب کہ آفتاب کھل چکا تھا پھر لوگوں پر خطبہ پڑھ الله کی حمدوثناکی پھرفرمایا کہ سورج اورچاند الله کی نشانیوں میں سے ہیں کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے نہیں گہنتے جب تم یہ دیکھو تو الله سے دعا کروتکبیریں کرو نماز پڑھو،خیرات کرو ۱∞؎پھر فرمایا اے محمدمصطفی کی امت رب کی قسم الله سے زیادہ کوئی اس پر غیرت مند نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زناکرے اے محمدمصطفی کی امت!رب کی قسم اگر تم وہ جانتے جومیں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مضمون دونوں حدیثوں کا تقریبًا یکساں ہے،الفاظ میں کچھ فرق ہے۔یہاں خطاب مالداروں سے ہےکیونکہ گرہن کے وقت صدقہ دینے کا انہی کو حکم ہے۔ملا علی قاری نے فرمایا کہ اکثر دنیا میں عذاب مالداروں کی وجہ سے آتا ہے اور رحمتیں فقراء کی وجہ سےکیونکہ زیادہ گناہ مالدار ہی کرتے ہیں کہ وہ مال کی وجہ سے بہت گناہوں پرقادر ہوتے ہیں لہذا ہرمصیبت میں انہیں زیادہ ڈرناچاہیئے۔۲؎یعنی جیسے ایک شریف آدمی کویہ گوارا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زناکرے وہ اس پر ان کوسخت سزا دیتا ہے،ایسے ہی رب تعالٰی کا غضب بندوں کے زنا پر جوش میں آتاہے۔خیال رہے کہ کفر کے بعد بدترین گناہ زنا ہےجس پرسخت عذاب آتے ہیں اسی لیے شریعت میں اس کی سزا قتل کی سزا سے بدتر ہےیعنی سنگسارکرنا،یعنی الله کے عذاب اور غضب جو میرے علم و مشاہدہ میں ہیں اگر تمہارے علم و مشاہدہ میں آجاتے تو ہنسنابھول جاتے،یہ تو حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کا تحمل ہے کہ دونوں جہاں کو سنبھالے ہوئے ہیں،سب کچھ دیکھتے بھالتے دنیا میں بھی شاغل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1483