Main Icon

باب : گرہن کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1491

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِكْرِمَة قَالَ: قِيلَ لِ ابْن عَبَّاسٍ : مَاتَتْ فُلَانَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِيلَ لَهٗ تَسْجُدُ فِي هٰذِهِ السَّاعَةِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا” وَأَيُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

وعن عكرمة قال: قيل ل ابن عباس : ماتت فلانة بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم فخر ساجدا فقيل له تسجد في هذه الساعة؟ فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “إذا رأيتم آية فاسجدوا” وأي آية أعظم من ذهاب أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ؟ رواه أبو داود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے کہا گیا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی فلاں بیوی وفات پاگئیں تو آپ سجدہ میں گر گئے ۱∞؎آپ سے کہا گیا کہ کیا اس گھڑی سجدہ کرتے ہیں تو فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیویوں کے تشریف لے جانے سے بڑی کون سی نشانی ہے ۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سجدہ ہیبت کا تھا کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم کے اصحاب اور بیویاں زمین والوں کے لیے امن ہیں،ان کی وفات امن کا اٹھناہے اور ان کا جانا مصیبتوں کا آناہے۔خیال رہے کہ یہ بی بی صاحبہ حضرت صفیہ ہیں،بعض نے کہا کہ حضرت حفصہ مگر پہلا قول قوی ہے اورعکرمہ حضرت ابن عباس کے غلام ہیں عکرمہ ابن ابوجہل اور ہیں۔۲؎مرقات ولمعات نے اس جگہ فرمایا کہ یہ حضرات بابرکت ہیں جن کے وسیلہ سے عذاب دور رہتاہے،رب کی رحمتیں آتی ہیں،ان کی وفات پر ذکر الله تعالی،نوافل اورسجدے زیادہ کروکیونکہ ان کی حیات کی برکت تو جاتی رہی اب الله کے ذکر کی برکت سے عذاب دور ہے۔خیال رہے کہ ازواج مطہرات کی وفات کی طرح سورج گرہن بھی الله کی نشانی ہے،لہذا اس وقت بھی ذکرونفل اورسجود چاہیئے اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1491