Main Icon

باب : تیمم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 529

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ يَبُوْلُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتّٰى قَامَ إِلَى جِدَارٍ، فَحَتَّهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى الْجِدَارِفَمَسَحَ وَجْهَهٗ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ. وَلَمْ أَجِدْ هٰذِهِ الرِّوَايَةَ فِيْ "الصَّحِيْحَيْنِ" وَلَا فِيْ "كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ"، وَلَكِنْ ذَكَرَهٗ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

وعن أبي الجهيم بن الحارث بن الصمة قال: مررت على النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يبول، فسلمت عليه، فلم يرد علي حتى قام إلى جدار، فحته بعصا كانت معه، ثم وضع يديه على الجدارفمسح وجهه وذراعيه، ثم رد علي. ولم أجد هذه الرواية في "الصحيحين" ولا في "كتاب الحميدي"، ولكن ذكره في "شرح السنة" وقال: هذا حديث حسن.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جہیم ابن حارث ابن صمّہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا جب کہ آپ پیشاب کررہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ آپ دیوار کی طرف گئے اسے لاٹھی سے جو آپ کے ساتھ تھی کھرچا ۲؎پھراپنے ہاتھ دیوار پر لگائے پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں پرمسح کیا۳؎پھرمیرا جواب دیا۴؎میں نے یہ روایت نہ تو صحیحین میں پائی اور نہ کتاب حمیدی میں لیکن اسے شرح سنہ میں ذکر کیا اورفرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎مشہورصحابی انصاری ہیں،ابی ابن کعب کے بھانجے ہیں،امیرمعاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲
؎کیونکہ دیوار کے ظاہری حصے پر یاپلیدی تھی یاکیڑے مکوڑے اس کھرچنے سے تیمم کے لئے پاک وصاف مٹی ظاہر ہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کی دیوار پر بغیر اجازت تیمم کرلینا اورضرورۃً کچھ کھرچ لینا جس سے دیوار کو نقصان نہ ہوجائز ہے۔
۳
؎یعنی دوبارہاتھ مارے ایک بار چہرے کے لیے اوردوسری بارکہنی تک ہاتھوں کے لئے۔
۴
؎خیال رہے کہ قضاء حاجت کی حالت میں سلام کرنا منع اور اگر کوئی کر دے تو جواب واجب نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب دینا اخلاق کریمانہ کی بناءپرتھا۔اس کی تحقیق "بَابُ مُخَالَطَۃِ الْجُنُبِ"میں کی جاچکی ہے کہ حضور کا یہاں جواب سلام کے لیے تیمم کرنا ایک خاص حال تھا اورطہارت وغیرطہارت ہر حال میں ذکرخدا کرنا قانون شرعی تھا،نیز پانی کے ہوتے ہوئے تیمم کرنا ایسا تھا جیسے نماز جنازہ کے لئے تیمم کرلینا،لہذا نہ حدیثیں متعارض ہیں اور نہ اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہ تیمم جائزکیونکرہوا۔
۵
؎یہ مصنف پر اعتراض ہے کہ وہ فصل اول میں غیرشیخین کی روایت لے آئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 529