Main Icon

باب : تیمم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 536

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِالصَّعِيْدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيْدَ، ثُمَّ مَسَحُوا بِوُجُوهِهِمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوْا بِأَكُفِّهِمِ الصَّعِيْدَ مَرَّةً أُخْرٰى، فَمَسَحُوْا بِأَيْدِيْهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالآبَاطِ مِنْ بُطُوْنِ أَيْدِيْهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عمار بن ياسر: أنه كان يحدث أنهم تمسحوا وهم مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بالصعيد لصلاة الفجر، فضربوا بأكفهم الصعيد، ثم مسحوا بوجوههم مسحة واحدة، ثم عادوا فضربوا بأكفهم الصعيد مرة أخرى، فمسحوا بأيديهم كلها إلى المناكب والآباط من بطون أيديهم. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے وہ بیان کرتے تھے کہ صحابہ نے پاک مٹی سے نمازفجرکے لیئے تیمم کیا جب کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو انہوں نے مٹی پراپنے ہاتھ پھیرے پھر ایک بار اپنے منہ پر ہاتھ پھیرلیا پھردوبارہ مٹی پر ہاتھ مارے تو اپنی ہتھیلیوں سے پورے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کیا ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بناء پر امام زہری فرماتے ہیں کہ تیمم میں ہاتھوں کا مسح بغلوں تک کیا جائے مگر صحیح یہی ہے کہ کہنیوں تک مسح ہو،کیونکہ تیمم وضوءکانائب ہے اوروضوءمیں ہاتھ کہنی تک ہی دھوئے جاتے ہیں۔ ان صحابہ کا یہ عمل اپنے اجتہاد سے تھا نہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے،انہوں نے قرآن کریم کی یہ آیت دیکھی"فَامْسَحُوۡا بِوُجُوۡھِکُمْ وَاَیۡدِیۡکُمۡ مِّنْہُ"۔اوربعض صحابہ کا اجتہاد واجب العمل نہیں خصوصًا جب کہ حدیث مرفوع کے مخالف واقع ہوجائے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وضوءمیں بغل تک ہاتھ دھوتے تھے۔حضرت عمار ابن یاسرغسل کے تیمم کے لیئے زمین پر لوٹے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 536