Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1454

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهٖ لِيُضَحِّيَ بِهٖ قَالَ: “يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ” ثُمَّ قَالَ: “اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ” فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهٗ ثُمَّ ذَبَحَهٗ ثُمَّ قَالَ: “بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ” . ثُمَّ ضَحّٰى بِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن يطأ في سواد ويبرك في سواد وينظر في سواد فأتي به ليضحي به قال: “يا عائشة هلمي المدية” ثم قال: “اشحذيها بحجر” ففعلت ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه ثم ذبحه ثم قال: “بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمد” . ثم ضحى به . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سینگ والے بکرے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلے،سیاہی میں بیٹھے،سیاہی میں دیکھے ۱∞؎آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تاکہ اس کی قربانی کریں فرمایا عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو،میں نے کرلیا پھر آپ نے چھری پکڑی اور بکرا پکڑکرلٹایا پھر اسے ذبح کیا پھر فرمایابِسْمِ اللهِ۲؎الٰہی اسے محمدصلی الله علیہ وسلم و آل محمدصلی الله علیہ وسلم و امت محمدصلی الله علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۳؎پھر اس کی قربانی کی ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کے پاؤں،سرین اور آنکھیں سیاہ ہوں باقی جسم پر کالے چٹے دھبّے۔۲؎یہثُمَّرتبہ تاخیر کے لیے ہے نہ کہ واقعہ کی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ذبح پہلےکرلیا اوربِسْمِ اللهِبعد میں پڑھی۔(مرقاۃ)یا ذبح کے معنی ہیں ذبح کا ارادہ فرمایا۔(اشعہ)۔خیال رہے کہ جانورکولٹاکر یا اسے دکھاکر چھری تیز نہ کی جائے۔۳؎یعنی قربانی کے ثواب میں انہیں بھی شریک فرمادے۔اس سےمعلوم ہوا کہ اپنے فرائض و واجبات کاثواب دوسروں کو بخش سکتے ہیں اس میں کمی نہیں آسکتی۔یہ حدیث کھانا سامنے رکھ کر ایصال ثواب کرنیکی قوی دلیل ہے کہ بکری سامنے ہے اور حضور اس کا ثواب اپنی آل اور امت کو بخش رہے ہیں۔۴؎یعنی اس کاگوشت پکاکر لوگوں کی دعوت کی۔لغت میںضحےٰکے معنی ہیں دوپہر کا کھاناکھلانا،یہاں لغوی معنی میں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1454