Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1461

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوْئَيْنِ فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: “إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيْ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمَوَات وَالْأَرْضَ عَلیٰ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الِمُسْلِمينَ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهٖ بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ: ذَبَحَ بِيَدِهٖ وَقَالَ: “بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُمَّ هٰذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ”

عن جابر قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجوئين فلما وجههما قال: “إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض علی ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم منك ولك عن محمد وأمته بسم الله والله أكبر ثم ذبح” . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والدارمي وفي رواية لأحمد وأبي داود والترمذي: ذبح بيده وقال: “بسم الله والله أكبر اللهم هذا عني وعمن لم يضح من أمتي”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دوخصی چتکبرے سینگ والے بکرے بقرعید کے دن ذبح کیے ۱∞؎جب انہیں قبلہ رو لٹایا تو فرمایا کہ میں نے اپنے کو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان و زمین پیدا کیے دین ابراہیمی پر ہوں ہر بے دینی سے الگ مشرکوں میں سےنہیں ہوں۲؎یقینًا میری نمازمیری قربانی میری زندگی اور میری موت رب العلمین کے لیئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم ملا اور میں مطیعین سے ہوں۳؎الٰہی یہ تجھ سے ہے اورتیرے لیئے ہے محمدمصطفےٰصلی الله علیہ وسلم اور ان کی امت کی طرف سے۴؎بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ،پھر ذبح فرمایا۔(احمد، ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اوراحمد،ابوداؤد و ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا اورکہابِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُالٰہی یہ میری طرف سے اور میرے اس امت کی طرف سے جو قربانی نہ کرسکے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎مدینہ منورہ میں،کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے حج کے موقعہ پر تو سو اونٹ ذبح کیے تھے نہ دو بکرے اور مکہ معظمہ کی دوسری قربانیاں حضرت جابر نے دیکھی نہیں کیونکہ آپ رضی الله عنہ انصاری ہیں،مدینہ منورہ میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے حالات دیکھتے تھے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ قربانی صرف مکہ مکرمہ میں چاہیئے اور کہیں نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ خصی جانور کی قربانی جائز ہے کہ خصی ہونا عیب نہیں بلکہ کمال ہے کہ خصی کا گوشت اعلیٰ ہوتا ہے،یوں ہی خصی بیل،خصی بھینسے کی بھی قربانی درست ہے۔۲؎علماءفرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کو الله تعالٰی نے ہمیشہ یعنی نبوت کےظہورسے پہلے اور بعدشرک وکفر اور گناہ سےمحفوظ رکھا اور آپ صلی الله علیہ وسلم اول عمر ہی سے عابدوزاہد تھے،کسی عبادت میں کسی دوسرے نبی کی اتباع نہ کی بلکہ ظہورنبوت سے پہلے دین ابراہیمی کی عبادتیں کرتے تھے جو اسلامی عبادات کے مطابق تھیں۔جب حضورصلی الله علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی تو حضورصلی الله علیہ وسلم غارِحرا میں اعتکاف وعبادات کررہے تھے۔(شامی وغیرہ)۳؎یہ قرآن کریم کی آیت ہے جسےحضورصلی الله علیہ وسلم نے ہمیشہ نماز شروع کرتے وقت اور قربانی کرتے وقت پڑھا۔یہاں نسک سے مراد قربانیاں ہیں ورنہ اس موقعہ پر یہ آیت پڑھنا درست نہ ہوتا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ قربانی کا ثبوت قرآن سےنہیں۔خیال رہے کہنُسُكجمع ہےنَسِیْکہکی،اس کے معنی اعمال حج بھی ہیں اور قربانیاں بھی مگر یہاں قربانی مراد ہے اس کی تفسیر وہ آیت ہے"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۴؎یعنی خدایا یہ قربانی تیری توفیق سے تیرے راضی کرنے کے لیئے کررہا ہے،اسے میرے اورمیری امت کی طرف سے قبول فرما،اس کی شرح ہوچکی۔۵؎یعنی تا قیامت فقرائے امت کی طرف سے میری یہ دوسری قربانی ہے،اب امرائے امت کو چاہیے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کیا کریں۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ قربانی واجب ہے اور مالی عبادات میں نیابت جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1461