Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1460

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هٰذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ ؟ قَالَ: “وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذٰلِكَ بِشَيْءٍ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشرة” قالوا: يا رسول الله ولا الجهاد في سبيل الله ؟ قال: “ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء” . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وہ زمانہ کوئی نہیں جن میں نیکیاں رب کو اس دن سے زیادہ پیاری ہوں ۱∞؎لوگوں نےعرض کیا یا رسول الله نہ الله کی راہ میں جہاد فرمایا نہ الله کی راہ میں جہاد سوائے اس کے جو اپنا جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بقر عید کے پہلے عشرہ میں رب تعالٰی کو بندوں کے نیک عمل بہت پیارے ہیں جن پر بہت ثواب دے گا کیونکہ یہ زمانہ حج کا ہے اور اسی عشرہ میں عرفہ کا دن ہے جو تمام دنوں سے بہتر ہے ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں نیکیاں بہت قبول ہیں کہ یہ زمانہ اعتکاف ہے اور اس میں شب قدر ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"وَ لَیَالٍ عَشْرٍ"دس راتوں کی قسم۔خیال رہے کہ دن تو بقرعید کے اول عشرہ کے افضل ہیں اور راتیں رمضان کے آخری عشرہ کی افضل،اسی لیے یہاںاَیَّامفرمایا گیا اور قرآن شریف میںلیال،لہذا قرآن وحدیث متعارض نہیں۔اس سےمعلوم ہوا کہ افضل دنوں میں عبادت بھی افضل ہے،اسی لیے شب معراج،شب برات،شبِ میلاد میں عبادات افضل ہیں کہ یہ افضل راتیں ہیں۔۲؎یعنی بقرعید کے پہلے عشرہ کے اعمال دوسرے زمانہ کے جہاد سے افضل ہیں،ہاں یہ جہاد جس میں غازی جان و مال سب کچھ قربان کردے یہ اس عشرہ کی نیکیوں سے افضل ہے۔معلوم ہوا کہ اس عشرہ کا جہادتو بہت ہی افضل ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1460