Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1462

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهٗ : مَا هَذَا؟ فَقَالَ: (إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ نَحْوَهٗ

وعن حنش قال: رأيت عليا يضحي بكبشين فقلت له : ما هذا؟ فقال: (إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أوصاني أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه. رواه أبو داود وروى الترمذي نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حنش سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ آپ دو بکرے قربانی دیتے تھے میں نے عرض کیا یہ کیا فرمایا مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں لہذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۱∞؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ حضرت علی تین بکرے قربانی کرتے تھے دوحضور انورصلی الله علیہ وسلم کی طرف سے مطابق آپ کی حیات شریف کے اور ایک اپنی طرف سے۔اس سےمعلوم ہوا کہ بعد وفات مرحوم کی طرف سے قربانی دیناجائزہے،ہاں اگر میت کی قربانی ہوتو اس کا سارا گوشت خیرات کردیا جائے اگر وارث اپنی جانب سے محض ثواب کے لیئے میت کی طرف سے قربانی کرے تو خودبھی کھائے اورفقراءو امیرسب کوکھلائے،حضور انورصلی الله علیہ وسلم کے نام کی قربانی توتبرک ہے،مسلمان برکت کے لیئے کھائیں،آج بھی بعض خوش نصیب حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتے ہیں،ان کی اصل یہ حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1462