Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1465

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَاذَا يُتَّقٰى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَأَشَارَ بِيَدِهٖ فَقَالَ: “أَرْبَعًا الْعَرْجَاءُ وَالْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تَنْقٰى” . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ

وعن البراء بن عازب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل: ماذا يتقى من الضحايا؟ فأشار بيده فقال: “أربعا العرجاء والبين ظلعها والعوراء البين عورها والمريضة البين مرضها والعجفاء التي لا تنقى” . رواه مالك وأحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کن قربانیوں سے بچنا چاہیے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا چار سے ۱∞؎لنگڑے سے جس کا لنگ ظاہرہو،کا نے سے جس کانا پن ظاہرہو۲؎بیمار سےجس کی بیماری ظاہر ہو اور دبلے سے جو ہڈی میں سپنگ نہ رکھتا ہو۳؎(مالک، احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ چار اصولی عیب ہیں جس میں بہت سے فروعی عیب شامل ہیں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ عیوب کا ذکر ہے۔۲؎یعنی وہ لنگڑا جانورجوقربانی گاہ تک نہ جاسکے اوروہ کانا جس کی ایک آنکھ کی روشنی بالکل جاتی رہی ہو اس سےکم لنگ اور ایک آنکھ میں معمولی پھلی وغیرہ کا ہونا مضر نہیں۔۳؎مرض ظاہر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ چارہ نہ کھائے اور سپنگ نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ دبلے پن کی وجہ سے کھڑی نہ ہوسکے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ قربانی کے اندرونی عیب جو محسوس نہ ہو ں مضر نہیں،فقہاء فرماتے ہیں کہ دیوانہ جانور جس کی دیوانگی ظاہر ہو اس کی قربانی نہ کی جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1465