Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1463

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَلَّا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدَارمِيْ وَاَنْتَهَتْ رِوَايَتَهُ الٰى قَوْلِهٖ: وَالْأُذُنَ

وعن علي قال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نستشرف العين والأذن وألا نضحي بمقابلة ولا مدابرة ولا شرقاء ولا خرقاء. رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي وانتهت روايته الى قوله: والأذن

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہمیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم آنکھ،کان،دیکھ لیں ۱∞؎نہ اگلے کان کٹے کی قربانی کریں نہ پچھلے کی نہ کان چرے کی نہ کان پھٹے کی۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی،ابن ماجہ)ابن ماجہ کی روایتأذنپرختم ہوگئی۔

شرح حدیث

۱∞؎آنکھ کان سے مراد سارے اعضاء ظاہری ہیں قربانی کے لیئے وہ جانور خریدا جائے جس کے کسی عضو میں کوئی ایسا عیب نہ ہو جو اس کے حسن میں کمی پیدا کرے یا جسم میں نقصان،لہذا اندھا،کانا،لنگڑا،دم کٹا،بہت دبلا وغیرہ جانور قربان نہ کیا جائے ان عیوب کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔۲؎لمبائی میں چرے کان کو شرقاء کہتے ہیں اور چوڑائی میں چرے کان کو خرقاء اس میں اکثر کان کا اعتبار ہے یعنی اگر آدھے سے زیادہ کان سلامت ہے اور آدھے سے کم چرا پھٹایا کٹا ہے تو اس کی قربانی جائز ہے اور اس کے برعکس کی ناجائز،یونہی سینگ ٹوٹے کا بھی حال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1463