Main Icon

باب : قربانی کابيان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1472

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن جُنْدُب بن عبد الله قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحٰى يَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعْدُ أَن صَلّٰى وَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهٖ وَسَلَّمَ فَإِذا هُوَ يَرٰى لَحْمَ أَضَاحِيٍّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهٖ فَقَالَ: “مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرٰى” . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ صَلّٰى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ: “مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرٰى مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللهِ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن جندب بن عبد الله قال: شهدت الأضحى يوم النحر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يعد أن صلى وفرغ من صلاته وسلم فإذا هو يرى لحم أضاحي قد ذبحت قبل أن يفرغ من صلاته فقال: “من كان ذبح قبل أن يصلي أو نصلي فليذبح مكانها أخرى” . وفي رواية: قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر ثم خطب ثم ذبح وقال: “من كان ذبح قبل أن يصلي فليذبح أخرى مكانها ومن لم يذبح فليذبح باسم الله”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جندب ابن عبد الله سے فرماتے ہیں کہ میں بقرعید یعنی قربانی کے دن حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ حاضرہوا تو ابھی آپ نمازسے آگے نہ بڑھتے تھے نماز سے فارغ ہوتے ہی تھے سلام ہی پھیرا تھا کہ قربانیوں کے گوشت دیکھے جو آپ کے نماز سے فارغ ہونےسے پہلے ذبح کردی گئی تھیں ۱∞؎تو فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے یا ہماری نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہوتو وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بقرعید کے دن نماز پڑھی پھرخطبہ پڑھا پھرقربانی کی اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کرلی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اورجس نے قربانی نہ کی ہوتو وہ الله کے نام پر قربانی کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ جانور ان لوگوں نے ذبح کیے ہوں گے جن پر نمازعید نہ تھی یا نمازعید شروع ہونے سے پہلے ذبح کردی گئی ہوں گی،حضور صلی الله علیہ وسلم نے بعد نماز انہیں دیکھا ہوگا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ان ذبح کرنے والوں نے نماز عیدکیوں نہ پڑھی۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ لوگ پہلے ہی اور جگہ نمازعید پڑھ چکے ہوں گے کیونکہ اس زمانہ میں یہ نماز صرف حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے ہوتی تھی،نیز اگر ایسا ہوتا تو سرکار قربانی لوٹانے کا حکم نہ دیتے۔۲؎اس کی شرح پہلےگزرچکی کہ شہرمیں جہاں نمازعید شرعًا ہوتی ہو وہاں قربانی کا وقت نماز عید کے بعدشروع ہوتاہے اور گاؤں میں نمازعید جائزنہیں،وہاں دسویں تاریخ کی پوپھٹنے سے شروع ہوجاتا ہے اوربارھویں کے آفتاب ڈوبنے تک رہتا ہے،یعنی شہر اور گاؤں ابتداءمیں علیٰحدہ ہیں انتہاءمیں یکساں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1472