Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3684

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَجِدُوْنَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهٰذَا الأَمْرِ حتّٰى يَقَعَ فِيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تجدون من خير الناس أشدهم كراهية لهذا الأمر حتى يقع فيه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم لوگوں میں بہترین شخص اسے پاؤ گے جو اس حکومت سے سخت متنفر ہو حتی کہ اس میں مبتلا ہو جائے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اسحتّیمیں دو احتمال ہیں:ایک یہ کہتجدونکی انتہا ہو،دوسرے یہ کہاشدکراھیۃکی انتہا ہو لہذا اس فرمان عالی کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ بہترین شخص وہ ہے جو حکومت و سلطنت اختیارکرنے سے سخت متنفر ہو اور وہ شخص اس وقت تک بہتر رہے گا جب تک کہ اس سے متنفر رہے،جب اس نے حکومت قبول کرلی تو بہتر نہ رہے گا۔دوسرے یہ جو شخص اولًا حاکم بننے سے متنفر ہو بننا نہ چاہتا ہو پھر رب تعالٰی کی طرف سے اسے حاکم یا سلطان بننا پڑ جائے تو پھر متنفر نہ رہے گا کیونکہ رب تعالٰی اس کی غیب سے مدد فرمائے گا مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں اسی پر شارحین زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔(لمعات ، مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3684