Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3705

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ قَالَ كَلِمَةَ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أفضل الجهاد من قال كلمة حق عند سلطان جائر" رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بڑا جہاد اس کا ہے ۱؎جو ظالم بادشاہ کے پاس حق بات کہے۲؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں عبارت میں یا تومنسے پہلےجہادپوشیدہ ہے یاافضلکے بعداھلپوشیدہ یعنیافضل اھل الجہاد من قالیاافضل الجہاد جہاد من قاللہذا نحوی اعتراض اس پر کوئی نہیں۔
۲
؎اگرچہ ایک کلمہ ہی ہو جیسے ہاں یا نہیں مثلًا فاسق بادشاہ اس سے پوچھے کیا داڑھی منڈانا اچھا ہے،وہ کہہ دے نہیں،یہ نہیں کہنا بڑا جہاد ہے،یہ جہاد اس لیے افضل ہوا کہ کفار پر جہاد کرنے والے کو اپنی موت کا یقین نہیں ہوتا،شاید باز آئے یا مارا جائے مگر اسکے بندے کو اپنی موت یا جانی مالی نقصان کا یقین ہوتا ہے کیونکہ یہ اس ظالم کے قبضہ میں ہوتا ہے،نیز اگر بادشاہ اس کی اس تبلیغ سے ظلم سے باز آجائے تو ایک مخلوق کو ظلم سے رہائی نصیب ہوجائے گی،قتل کافر سے ایک کافر کم ہوگا مگر اس تبلیغ سے خلق خدا کو فائدہ ہوگا،نیز یہ کلمہ اپنے نفس پر بڑا جہاد ہے کہ ایسے بادشاہ کے سامنے خوشامد کرنے کو نفس چاہتا ہے۔امام غزالی نے فرمایا کہ ظالم بادشاہ کو تبلیغ صرف وعظ و نصیحت سے ہوسکتی ہے قہر سے نہیں وہ بھی نرمی سے کیونکہ اسے ظالم جابر کہہ کر پکارنا گالیاں دینا سخت فتنہ کا باعث ہے۔(احیاءالعلوم،مرقات)شہد کی ایک بوند بہت سی مکھیوں کو جمع کرلیتی ہے مگر سرکہ کا ایک گھڑا مکھی کو نہیں بلاسکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3705