- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- حاکم اور قاضی بننے کا بیان
- حدیث نمبر 3675
باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3675
حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 3661
- 3662
- 3663
- 3664
- 3665
- 3666
- 3667
- 3668
- 3669
- 3670
- 3671
- 3672
- 3673
- 3674
- 3675
- 3676
- 3677
- 3678
- 3679
- 3680
- 3681
- 3682
- 3683
- 3684
- 3685
- 3686
- 3687
- 3688
- 3689
- 3690
- 3691
- 3692
- 3693
- 3694
- 3695
- 3696
- 3697
- 3698
- 3699
- 3700
- 3701
- 3702
- 3703
- 3704
- 3705
- 3706
- 3707
- 3708
- 3709
- 3710
- 3711
- 3712
- 3713
- 3714
- 3715
- 3716
- 3717
- 3718
- 3719
- 3720
- 3721
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كَانَتْ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيُّ خَلَفَهٗ نَبِيٌّ، وَإِنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ، وَسَيَكُوْنُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُوْنَ" قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: "فُوا بَيْعَةَ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوْهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللّٰهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء فيكثرون" قالوا: فما تأمرنا؟ قال: "فوا بيعة الأول فالأول، أعطوهم حقهم فإن الله سائلهم عما استرعاهم". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیاء کرام کرتے تھے ۱؎جب کبھی ایک نبی انتقال فرماتے تو دوسرے نبی ان کے پیچھے تشریف لاتے ۲؎اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۳؎خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے ۴؎صحابہ نے عرض کیا تو ہم کو کیا حکم فرماتے ہیں ۵؎فرمایا اگلے پھر اگلے کی بیعت پوری کرو۶؎انہیں ان کا حق دو کیونکہﷲتعالٰی ان سے خود پوچھ لے گا ان کے متعلق جن کو ان کی رعایا بنایا۔(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎تسوسبنا ہے سیاست سے بمعنی ملکی و قومی انتظام جس میں دینی انتظام بھی داخل ہے یعنی بنی اسرائیل میں خود حضرات انبیاء کرام سارے قومی ملکی ملی دینی انتظام فرمایا کرتے تھے،ان کے جانشین امراء و خلفاء نہ ہوتے تھے بلکہ حضرات انبیاء کے خلفاء خود انبیاء ہوتے تھے،موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون سے فرمایا تھااخلفنی من بعدی۔۲؎اس سے معلوم ہوا کہ خلافت اسلامیہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سے شروع ہوئی،اسلامی سلاطین کی بیعت اور حضرات مشائخ کرام کی مریدی اسلام کی خصوصیات سے ہے،پہلے شریعت و ملک کی حفاظت حضرات انبیاءکرام سے ہوتی تھی۔
۳؎یعنی نہ تو میرے زمانہ میں کوئی نبی ہے جو میری موجودگی میں میرا عارضی خلیفہ ہو جیسے ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں کچھ روز کے لیے عارضی خلیفہ ہوئے جب موسیٰ علیہ السلام توریت لینے طور پر تشریف لے گئے اور نہ میرے بعد کوئی نبی ہے جو میرا مستقل خلیفہ ہو لہذا میرے خلفاء میرے دین کے سلاطین ہیں اور باطنی خلفاءحضرات اولیاءوعلماء۔خیال رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حضور کے بعد نبی نہیں وہ تو پہلے کے نبی ہیں اور اب بشان نبوت تشریف نہ لائیں گے بلکہ حضور کے امتی ہوکر اور خلیفہ امام مہدی ہی ہوں گے۔
۴؎یہاںخلفاءسے مراد ظاہری خلفاء ہیں یعنی اسلامی سلاطین و امراءخلفاء،خلافت تو قریش کے ساتھ خاص ہے اور سلطنت عام ہے،خلافت میں حکومت کے ساتھ نیابت مصطفوی بھی ہوتی ہے،سلطنت میں صرف حکومت ہے اسی لیے خلفاء راشدین کے زمانہ میں مشائخ سے بیعت نہ کی جاتی وہ خلفاء راشدین مشائخ بھی تھے انکی بیعت بیعت ارادت بھی ہوتی تھی اور بیعت حکومت بھی۔
۵؎یعنی اگر بہت سے خلیفہ بن جائیں تو ہم کیا کریں کس کی بیعت کریں۔
۶؎یعنی یکے بعد دیگرے خلفاء کی بیعت کرنا جب پہلا خلیفہ فوت ہوجائے تو اب جو خلیفہ بنے اس کی اطاعت کرو بیک وقت دو خلیفہ نہیں ہوسکتے،اگر ہوں تو پہلا خلیفہ ہوگا دوسرا باغی۔چنانچہ خلافت حیدری میں امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے اور حضرت امیر معاویہ باغی،جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان کے حق میں خلافت سے دست برداری فرمالی تب وہ سلطان برحق ہوئے۔خیال رہے کہ بیک زمانہ مختلف ملکوں کے بادشاہ بہت ہوسکتے ہیں مگر تمام مسلمانوں کا خلیفہ ایک ہی ہوگا۔آج پاکستان،ترکی، کابل،ایران اور پاکستان کے صدر یا بادشاہ الگ الگ ہیں مگر ان میں خلیفۃ المسلمین کوئی نہیں،امام مہدی تمام مسلمانوں کے خلیفۃ المسلمین ہونگے۔اس حدیث کی بنا پرصوفیاءکرام فرماتے ہیں کہ ایک وقت میں دو پیروں کا مرید نہیں ہوسکتا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3675