Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3677

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّهٗ سَيَكُوْنُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هٰذِهِ الأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيْعٌ فَاضْرُبوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عرفجة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إنه سيكون هنات وهنات، فمن أراد أن يفرق أمر هذه الأمة وهي جميع فاضربوه بالسيف كائنا من كان". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عرفجہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ فتنہ اور فساد ہوں گے شرارتیں بدخوئیاں ہوں گی ۲؎تو جو اس امت کا معاملہ جداکرنا چاہے حالانکہ امت متفق ہو تو اسے تلوار سے مار دو کوئی بھی ہو ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عرفجہ ابن سعد ہیں،آپ سے آپ کے بیٹے طرفہ نے روایات لیں،آپ وہی عرفجہ ہیں جن کی ناک کٹ گئی تھی،جنگ کلاب میں تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا کر لگوائی تھی مگر وہ بدبودار ہوگئی تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو سونے کی ناک لگوا لینے کا حکم دیا،یہ واقعہ مشکوۃ شریفکتاب اللباس باب الخاتممیں آئے گا،آپ سے روایات بہت کم ہیں۔
۲
؎ھنات ھکے فتح سے ہے جمعھنکی بمعنی ناقابل ذکر چیزا سی لیے شرمگاہ کوھنکہتے ہیں کہ وہ بھی ناقابل ذکر ہوتی ہے،یہاں اس سے مراد ناقابل ذکر فتنے فساد شرارتیں ہیں۔مکرر فرمانے سے معلوم ہوا کہ وہ فتنہ مسلسل اور دراز ہوں گے اور بہت سی قسم کے ہوں گے۔
۳
؎خواہ عربی ہو یا عجمی عالم ہو یا جاہل صوفی ہو یا پیر درویش،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اولاد سے ہو یا کسی اور خاندان سے غرضکہ کوئی بھی ہو جب وہ میری امت میں تفریق کی کوشش کرے وہ مستحق قتل ہے۔(مرقات)اس حکم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو نئے مذاہب ایجاد کرکے مسلمانوں کے ٹکڑے کر دینا چاہیں اور جیسے ایک خلیفہ کی اطاعت چاہیے ایسے ہی ایک امام کی تقلید چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3677