Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3664

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اَلسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيْمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے سننا اور اطاعت کرنا ہر مسلمان آدمی پر لازم ہے ۱؎ہر اس حکم میں جسے پسند کرے یا ناپسند جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے تو نہ سننا ہے نہ اطاعت ۲؎(مسلم ،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بشرطیکہ اس کا حکم خلاف شرع نہ ہو۔
۲
؎یعنی سلطان اسلام کا جائز حکم تمہاری طبیعت کے خلاف ہو یا موافق بہرحال قبول کرو لیکن اگر وہ خلاف شرع حکم کرے تو اس کی فرمانبرداری نہ کی جائے،فرمانبرداری صرفرسول کی ہے مگر ایسے احکام مانے بھی نہیں اور اس بنا پر بغاوت بھی نہ کرے،بادشاہ سے جنگ ملک کی تباہی کا باعث ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3664