Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3668

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ رَأٰى مِنْ أَمِيْرِهٖ شَيْئًا يَكْرَهُهٗ فَلْيَصْبِرْ؛ فَإِنَّهٗ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوْتَ إِلَّا مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من رأى من أميره شيئا يكرهه فليصبر؛ فإنه ليس أحد يفارق الجماعة شبرا فيموت إلا مات ميتة جاهلية". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو اپنے حاکم سے ناپسندیدہ چیز دیکھے تو صبر کرے ۱؎کیونکہ نہیں ہے کوئی جو جماعت سے بالشت بھر الگ رہے پھر مرجائے ۲؎مگر وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر حاکم یا سلطان میں کوئی شرعی یا طبعی یا اخلاقی نقص دیکھے تو صرف اس وجہ سے اس پر خروج نہ کرے اور اس کے خلاف عَلم بغاوت بلند نہ کرے،اس کا یہ مطلب نہیں کہ احسن طریقہ سے اس کی اصلاح بھی نہ کرے۔جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق کہہ دینا تو اعلی درجہ کا جہاد ہے،اصلاح اور چیز ہے خروج کچھ اور۔
۲
؎یعنی جو مسلمانوں کی اس جماعت سے جو کسی سلطان اسلام پر متفق و متحد ہوں تھوڑا سا بھی الگ رہے گا اس کا انجام وہ ہوگا جو آگے مذکور ہے۔
۳
؎یعنی اس کی موت زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی سی موت ہوگی کہ نہ ان کا کوئی سلطان ہوتا تھا نہ جماعت نہ ان میں تنظیم تھی نہ قومی اتفاق۔(مرقات)اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کافر ہوگا۔خیال رہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے یزید پلیدکو سلطان اسلام بنانے کا مسئلہ تھا نہ کہ بنے ہوئے سلطان کی اطاعت کا مسئلہ لہذا اس عالی جناب کی ذات مقدس اس حدیث کی زد میں نہیں آسکتی،جیسے فاسق کو امام نماز بنانا مکروہ و ممنوع ہے مگر جس مسجد میں فاسق آدمی امام بن جائے تو اس کی وجہ سے جماعت نہ چھوڑے اس کے پیچھے پڑھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3668