Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3709

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِنَّكَ إِذَا اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

وعن معاوية قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إنك إذا اتبعت عورات الناس أفسدتهم". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم جب لوگوں کے خفیہ عیوب کے پیچھے پڑو گے تو انہیں بگاڑ دو گے ۱؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ اس فرمان عالی میں خطاب خصوصی طور پر جناب معاویہ سے ہے چونکہ آئندہ یہ سلطان بننے والے تھے تو اس غیوب داں محبوب صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے ہی ان کو طریقہ سلطنت کی تعلیم فرمادی کہ تم بادشاہ بن کر لوگوں کے خفیہ عیوب نہ ڈھونڈھا کرنا درگزر اور حتی الامکان عفووکرم سے کام لینا اور ہوسکتا ہے کہ روئے سخن سب سے ہو کہ باپ اپنی جوان اولاد کو،خاوند اپنی بیوی کو،آقا اپنے ماتحتوں کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے نہ دیکھے۔بدگمانیوں نے گھر بلکہ بستیاں بلکہ ملک اجاڑ ڈالے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"اور فرماتاہے:"وَلَا تَجَسَّسُوۡا"ہم اپنے عیب ڈھونڈیں اور لوگوں کی خوبیاں تلاش کریں۔خیال رہے کہ یہاں بلا وجہ کی بدگمانیوں سے ممانعت ہے ورنہ مشکوک اوربدمعاش لوگوں کی نگرانی کرنا سلطان کے لیے ضروری ہے، جاسوسی کا محکمہ ملک رانی کے لیے لازم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3709