Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3708

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الأَمِيْرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيْبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الأمير إذا ابتغى الريبة في الناس أفسدهم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ حاکم جب لوگوں میں تہمت و شک ڈھونڈنے لگے ۱؎تو انہیں بگاڑ دے گا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حاکم میں بادشاہ وزیر حکام سب ہی داخل۔(مرقات)ریبہر کے کسرہ سے بمعنی شک و تہمت،قرآن کریم میں ہے"لَا رَیۡبَ فِیۡہِ"یعنی اگر سلطان یا حکام اپنی رعایا پر بدگمانی کرنے لگیں اور ان کے معمولی کاموں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں اور ان کی بلاوجہ پکڑ دھکڑ کرنے لگیں۔
۲
؎یعنی ان کے دین و دنیا تباہ کردے گا اور ملک میں فساد برپا ہوجائے گا کیونکہ عیوب سے بالکل خالی کوئی کوئی ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کے عیوب کی تلاش نہ کرو بلا وجہ ان پر بدگمانی نہ کرو،احادیث میں گزرچکا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اقراری زانی کو فرمایا شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3708