Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3703

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ" يَعْنِي الَّذِيْ يَعْشُرُ النَّاسَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يدخل الجنة صاحب مكس" يعني الذي يعشر الناس. رواه أحمد وأبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت میں ٹیکس وصول کرنے والا نہ جائے گا ۱؎یعنی جوکہ لوگوں سے عشر لیتا ہے ۲؎( احمد،ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس قسم کے فرمانوں کی شرح گزشتہ حدیث میں کی جاچکی ہے کہ فائزین کے ساتھ اول ہی سے جنت میں نہ جاسکے گا کیونکہ ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم اور رشوت خور ہوتے ہیں مگر جسے خدا بچائے،مکسکا ترجمہ ٹیکس نہایت مناسب ہے،آج کل عربی میں مال کے ٹیکس کوجمركاور آدمی کے ٹیکس کوکوشانکہتے ہیں۔
۲
؎یہاںعشرسے مراد پیداوار کا دسواں حصہ اور خراج اور راستہ کی چونگی باہر سے آنے والے مال کا ٹیکس وغیرہ سب ہے،یہ تفسیر اس حدیث کے راوی محمد ابن اسحاق ابن مندہ کی ہے۔لفظیعنیفرماکر انہوں نے فرمایا کہ صاحب مکس سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی مراد عشر لینے والا ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3703