Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3720

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ نَظَرَ إِلٰى أَخِيْهِ نَظْرَةً يُخِيْفُهٗ أَخَافَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ! رَوَى الأَحَادِيْثَ الأَرْبَعَةَ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ" وَقَالَ فِيْ حَدِيْثِ يَحْيٰى: هٰذَا مُنْقَطِعٌ، وَرِوَايَتُهٗ ضَعِيْفٌ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من نظر إلى أخيه نظرة يخيفه أخافه الله يوم القيامة! روى الأحاديث الأربعة البيهقي في "شعب الإيمان" وقال في حديث يحيى: هذا منقطع، وروايته ضعيف.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بھائی کی طرف ۱؎ڈرانے کے لیے گھورے اسےتعالٰی قیامت کے دن ڈرائے گا۲؎یہ چاروں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور یحیی کی حدیث کے متعلق فرمایاکہ یہ منقطع ہے۳؎اور اس کی روایت ضعیف ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎بھائی سے مراد مسلمان بھائی ہے یعنی جوشخص کسی مسلمان کو بلاقصور تیز نظر سے گھور کر ڈرائے ورنہ قصورمند کو گھورنا ڈرانا ضروری ہے۔
۲
؎یہ حدیث اس باب میں لانے کا مقصد یہ ہےکہ جب کسی کو بلاقصو ر گھو ر کرڈرانا اتنے بڑے وبال کا ذریعہ ہے تو جو ظالم حاکم لوگوں کو ستائے وہ کتنا بڑا مجرم ہوگا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کو رحمت کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے کہ اللہ تعالٰی اسے عنایت کی نظر سے دیکھے گا،یہ بھی معلوم ہواکہ انسان حکومت وسلطنت پاکر فرعون نہ بن جائے ،اپنی مسلمان رعایاکو اپنا دینی بھائی سمجھے اور کافر رعایا کو اپنے دامن کرم میں چھپائے۔
۳
؎یہاں منقطع سے مراد مرسل ہے کیونکہ اس میں صحابی کاذکر نہیں ،وہ صحابی ابو بکرہ ہیں مگر صرف ارسال مضر نہیں کیونکہ مرسل حدیث جمہور کےنزدیک مقبول ہے۔(مرقات)
۴
؎مرقات نے یہاں فرمایا کہ روایات یحیی موضوع ہیں۔خیال ہے کہروایتمؤنث ہے مگر چونکہ فعیل صفت مشبہ میں مذکر مؤنث یکساں ہیں اس لیےضعیفہکہنا ضروری نہیں ضعیف بھی جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3720