Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3715

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا مُعَاوِيَةُ! إِنْ وُلِّيْتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللّٰهَ وَاعْدِلْ" قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّيْ مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ابْتُلِيْتُ.

وعن معاوية قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا معاوية! إن وليت أمرا فاتق الله واعدل" قال: فما زلت أظن أني مبتلى بعمل لقول النبي صلى الله عليه وسلم حتى ابتليت.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے اے معاویہ اگر تم حکومت کے والی بنائے جاؤ توسے ڈرنا اور انصاف کرنا ۱؎فرماتے ہیں کہ پھر میں گمان کرتا رہا کہ میں حکومت میں مبتلا ہوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی وجہ سے یہاں تک کہ مبتلا کیا گیا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اِناگرچہ شک کے لیے آتا ہے مگررسول کے ایسے فرمانوں میں یقین کے لیے ہے جیسے قرآن کریم فرماتا ہے:"اِنۡ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْکُمۡ بَعْضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمْ"یا جیسےاِنۡ کَانَ مِنْ عِنۡدِ اللہِ ثُمَّ کَفَرْتُمۡ بِہٖ"۔چنانچہ جناب معاویہ سلطان اسلام بنے وہ اس خبر کا ظہور تھا جو کچھ مبارک منہ سے نکلتا ہے حق ہوتا ہے۔
۲
؎یہاں بھیاظن،بمعنیاتیقنہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ"یعنی مجھے اس فرمان عالی کی بنا پر یقین ہوگیا تھا کہ مجھے حکومت یقینًا ملنی ہے ،تقدیر الٰہی یوں ہی ہے۔چونکہ تقویٰ اور عدل دونوں چیزیں اور ان کا اجتماع بہت اہم ہے اس لیے آپ نے حکومت ملنے کو مبتلا ہونا یعنی آزمائش کیا جانا فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3715