Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3670

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِيْنَ تُحِبُّوْنهمْ وَيُحِبُّوْنَكُمْ، وَتُصَلُّوْنَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّوْنَ عَلَيْكُمْ، وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِيْنَ تَبْغِضُوْنَهُمْ ويُبْغِضُوْنَكُمْ وَتَلْعَنُوْنَهُمْ وَيَلْعَنُوْنَكُمْ"، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذٰلِكَ قَالَ: "لَا، مَا أَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ، لَا مَا أَقَامُوْا فِيْكُمُ الصَّلَاةَ، أَلَا مَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِيْ شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللّٰهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِيْ مِنْ مَعْصِيَةِ اللّٰهِ، وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عوف بن مالك الأشجعي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم، وتصلون عليهم ويصلون عليكم، وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم"، قال: قلنا: يا رسول الله!أفلا ننابذهم عند ذلك قال: "لا، ما أقاموا فيكم الصلاة، لا ما أقاموا فيكم الصلاة، ألا من ولي عليه وال فرآه يأتي شيئا من معصية الله فليكره ما يأتي من معصية الله، ولا ينزعن يدا من طاعة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا کہ تمہارے بہترین حکام وہ ہیں جو تم سے محبت کریں اور تم ان سے محبت کرو تم انہیں دعائیں دو وہ تمہیں دعائیں دیں ۱؎اور تمہارے بدترین حکام وہ ہیں کہ تم ان سے نفرت کرو وہ تم سے نفرت کریں تم ان پر پھٹکارکرو۲؎وہ تم پر لعنت کریں فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا یارسولکیا ہم اس وقت ان کو پھینک دیں۳؎فرمایا نہیں جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کریں۴؎نہیں جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کریں، خبردار جس پر کوئی امیر والی ہو پھر اس میںکے گناہوں میں سے کچھ دیکھے تو جو کچھ وہکا گناہ کرتا ہے اسے تو ناپسندکرے ۵؎اور اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں آئمہ سے مراد والی ہیں خواہ سلطان ہو یا حکام۔(مرقات)مطلب یہ ہے کہ حکام عادل ہوں تم سے مل جل کر رہیں،تمہاری ان کی آپس میں محبت ہو،تمہارے ساتھ نمازوں میں شریک ہوں ایسے حکامکی رحمت ہیں جیسے عہد صحابہ میں ہوتا تھا اور بعد میں بھی عادل سلاطین میں رہا۔
۲
؎یعنی ظالم ہوں متکبر ہوں،اپنے عیش و طرب میں رہیں،ملک و رعایا سے لاپرواہ رہیں فساق وفجار ہوں ایسے حکام خدا کا عذاب ہیں۔
۳
؎یعنی کیا ہم ان کو حکومت سے نکال باہر نہ کردیں اور ان سے کی ہوئی بیعت توڑ کر ان سے جنگ نہ کریں۔
۴
؎یعنی جب تک سلاطین و حکام مسلمانوں میں جمعہ وعیدین قائم کریں،مسجدوں کا انتظام کریں،نمازوں کا اہتمام کریں تب تک تم ان کو علیحدہ نہ کرو ان کی بیعت نہ توڑو کیونکہ نمازیں قائم کرنا مؤمن ہونے کی علامت ہے،جو نمازیں قائم کرتا ہے وہ دین کا ضرور خیال رکھے گا،اس میں نماز کی اہمیت کا اظہار ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ
۵
؎اس طرح کہ اگر طاقت ہو تو زبان سے بادشاہ کو نصیحت کرے ورنہ اس کی حرکتوں کو دل سے برا جانے اس کی حمایت نہ کرے۔
۶
؎یعنی سلطان یا حکام کی معصیت کی وجہ سے ان کی بغاوت نہ کرے ان سے لڑے نہیں کہ مسلمانوں کی خون ریزی بڑے سے بڑا گناہ ہے ہاں ان کی معصیتوں کی حمایت نہ کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3670