Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3673

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيْدَ الْجُعْفِيُّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُوْنَّا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَّا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: "اسْمَعُوْا وَأَطِيْعُوْا؛ فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوْا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن وائل بن حجر قال: سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا نبي الله! أرأيت إن قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا؟ قال: "اسمعوا وأطيعوا؛ فإنما عليهم ما حملوا، وعليكم ما حملتم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے فرماتے ہیں سلمہ ابن یزید ۱؎نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا یا نبیفرمایئے تو اگر ہم پر ایسے حکام قائم ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق ہم سے روکیں تو حضور ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ۲؎فرمایا سنو اور اطاعت کرو ۳؎کیونکہ ان پر وہی ہے جو ان پر ڈالا گیا اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالا گیا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بعض شارحین نے ان کا نام یزید ابن سلمہ کہا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ سلمہ ابن یزید ہیں صحابی ہیں،کوفہ میں قیام پذیر رہے ۔
۲
؎یعنی ایسے بادشاہوں کی ہم بغاوت کریں یا نہیں۔
۳
؎یعنی قولا ً سنو اور عملًا ان کی اطاعت کرو یا ظاہرًا سنو اور باطنًا ان کی اطاعت کرو۔( مرقات)خلاصہ یہ ہے کہ اپنے حقوق کے لیے ملک کو ویران نہ کرو،بغاوت سے ملک کی ویرانی ہوتی ہے،قوم پر اشخاص قربان ہونے چاہیے اور دین پر تن من دھن فدا ہونے لازم ہیں۔
۴
؎یعنی ان بادشاہوں اور حکام پر شرعًا عدل و انصاف رعایا پروری ادائے حقوق واجب ہے اور رعایا پر ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ان سے ان کی ذمہ داریوں کا سوال ہوگا اورتم سے تمہاری ذمہ داریوں کا حساب ہوگا،اگر وہ اپنے فرائض کی ادا میں کوتاہی کرتے ہیں تو تم اپنے فرائض میں کوتاہی کیوں کرو تم کو اپنی قبر میں سونا ہے ان کو اپنی قبر میں سونا۔علیہماورعلیکمکے مقدم فرمانے سے حصر کا فائدہ حاصل ہوا۔سبحان اﷲ!کیسا ایمان افروز فرمان ہے کہ اپنے حقوق کی فکرکرو دوسروں کی فکر چھوڑو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3673