Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3683

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِيْ عَمِّيْ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَمِّرْنَا عَلٰى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللّٰهُ، وَقَالَ الآخَرُ مِثْلَ ذٰلِكَ، فَقَالَ: "إِنَّا وَاللّٰهِ لَا نُوَلِّيْ عَلٰى هٰذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهٗ، وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ" وَفِيْ رِوَايَةٍ قَالَ: "لَا نَسْتَعْمِلُ عَلٰى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي موسى قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم أنا ورجلان من بني عمي، فقال أحدهما: يا رسول الله! أمرنا على بعض ما ولاك الله، وقال الآخر مثل ذلك، فقال: "إنا والله لا نولي على هذا العمل أحدا سأله، ولا أحدا حرص عليه" وفي رواية قال: "لا نستعمل على عملنا من أراده". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں مَیں اور میرے چچازاد بھائیوں میں سے دو شخص گئے تو ان دونوں میں سے ایک نے عرض کیا یارسول(صلی اللہ علیہ و سلم )بعض ان چیزوں پر ہم کو حاکم بنائیے جن پرنے آپ کو حاکم بنایا ۱؎اور دوسرے نے بھی اسی طرح کہا تو فرمایا وہم اس منصب پر کسی ایسے کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا طلب گار ہواور نہ اس کو جو اس پر حریص ہو۲؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا ہم اپنے عمل پر ایسے کو قائم نہیں کرتے جو اسے چاہے۳؎(مسلم ،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نبوت تو حضور کے لیے خاص ہے کوئی اس کی تمنا کرسکتا ہی نہیں مگرنے آپ کو سلطان بنایا ہے تو اپنی ماتحتی میں قاضی،حاکم کسی علاقہ کا امیر ہم کو بنادیجئے۔
۲
؎یہ سوال پورا نہ فرمانا عطاء سے منع نہیں بلکہ ان دونوں حضرات پر اور مخلوق خدا پر رحم و کرم ہے کیونکہ حکومت کے خواہشمند حکومت پاکر ظلم و ستم کرکے اپنا دین بگاڑ لیتے ہیں اور لوگوں کی دنیا برباد کرتے ہیں اس کی شرح پہلے کی جاچکی ہے کہ حکومت کی طلب کب بری ہے اور کب اچھی۔سوال سے مراد ہے منہ سے مانگنا اور حرص سے مراد ہے منہ سے تو نہ مانگنا مگر اس کی کوشش کرنا۔
۳
؎دنیا طلبی نفسانی خواہش کے لیے کیونکہ ایسے آدمی کیتعالٰی مدد نہیں کرتا جس سے لوگوں پرظلم کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3683