Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3711

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَتَدْرُوْنَ مَنِ السَّابِقُوْنَ إِلَى ظِلِّ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ " قَالُوْا: اَللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ أَعْلَمُ، قَالَ: "الَّذِيْنَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوْهُ، وَإِذَا سُئِلُوْهُ بَذَلُوْهُ، وَحَكَمُوْا لِلنَّاسِ كَحُكْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ".

عن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أتدرون من السابقون إلى ظل الله عز وجل يوم القيامة؟ " قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: "الذين إذا أعطوا الحق قبلوه، وإذا سئلوه بذلوه، وحكموا للناس كحكمهم لأنفسهم".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دنعزوجل کے سایہ کی طرف سبقت کرنے والے کون ہیں ۱؎حاضرین نے عرض کیاورسول خوب جانتے ہیں۲؎فرمایا وہ لوگ جب حق دیئے جائیں تو اسے قبول کرلیں ۳؎اور جب ان سے حق مانگا جائے تو دے دیں۴؎اور لوگوں کے لیے ایسے فیصلے کریں گے جیسے اپنی ذات کے لیے فیصلے۵؎

شرح حدیث

۱؎کے سایہ سے مراد یا توکے عرش اعظم کا سایہ ہے یاتعالٰی کی رحمت و کرم مراد ہے،ورنہتعالٰی کی ذات سایہ سے پاک ہے کہ سایہ کثیف جسم کا ہوتا ہے وہ جسم اور کثافت دونوں سے پاک ہے یعنی قیامت کے دن پہلے عرش اعظم کے سایہ یاکی رحمت میں کون پہنچیں گے۔
۲
؎صحابہ کرام کا ادب یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ایسے سوال کے جواب میں یہی عرض کرتے تھے کہرسول جانیں،حج کے دن سوال فرمایا کہ آج کیا دن ہے یہ کون سی جگہ ہے سب کے جواب میں یہی عرض کیا گیا کہرسول جانیں۔معلوم ہوا کہ حضور کو رب سے ملا کر ذکر کرنا بالکل جائز ہے اور یہ کہتعالٰی نے حضور کو علوم غیبیہ بخشے ہیں کہ حضرات صحابہ نے اس غیبی چیز کے متعلق یہ عرض نہیں کیا کہجانے بلکہ کہا آپ اور آپ کا رب جانے۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہالذینسے مراد حکام وبادشاہ ہیں۔حق سے مراد وہ حقوق جو رعایا پر واجب ہیں جیسے عشر و خراج و اطاعت یا حق سے مراد کلمۂ حق اور سچی بات ہے یعنی وہ بادشاہ و حکام جورعایا سے صرف اپنا حق لیں،حق سے زیادہ رشوت وغیرہ نہ لیں یا جب انہیں کوئی حق بات سنائے تو اسے قبول کرلیں اور سنانے والے کا احسان مانیں،اسے قبول کرنے میں اپنی عار محسوس نہ کریں،اس جملہ کی اور بھی شرحیں کی گئیں ہیں مگر یہ شرح قوی ہے۔
۴
؎یعنی اگر رعایا ان سے اپنا حق مانگے تو بخوشی دے دیں کسی قسم کا پس و پیش نہ کریں یا جب ان سے حق بات پوچھی جائے تو اس کے بتانے میں دریغ نہ کریں اگرچہ وہ بات ان کے خلاف ہی ہو۔
۵
؎یعنی جیسا فیصلہ اپنے یا اپنے عزیزوں کے لیے چاہتے ہیں فیصلہ حق ایسا ہی فیصلہ وہ دوسروں کے لیے کریں۔سبحان اﷲ!اگر صرف اس حدیث پر عمل کی توفیق راعی و رعایا کو مل جائے تو ملک میں نہ ہڑتالیں ہوں نہ فتنے و فساد نہ بدامنی۔شعر
کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو کلام ایسا کہ جو کوئی تم سےکرتاتمہیں ناگوارہوتا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3711