Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3699

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْعِرَافَةَ حَقٌّ، وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ عُرَفَاءَ، وَلَكِنَّ الْعُرْفَاءَ فِي النَّارِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن غالب القطان عن رجل عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن العرافة حق، ولا بد للناس من عرفاء، ولكن العرفاء في النار". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے غالب قطان سے ۱؎وہ ایک صاحب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے ۲؎راوی فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سرداری حق ہے۳؎اور لوگوں کو سرداروں کی ضرورت ہے لیکن سردار ہوں گے آگ میں ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین میں سے ہیں،آپ غالب ابن ابی غیلان ابن خطاف قطان بصری ہیں،ثقہ ہیں،خواجہ حسن بصری اور سعید ابن جبیر کے شاگرد ہیں۔
۲
؎یہ صاحب اور انکے والد تو مجہول ہیں خبر نہیں کون ہیں ان کے دادا اگرچہ مجہول ہیں مگر صحابی ہیں،چونکہ سارے صحابہ عادل ہیں اس لیے انکا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں۔
۳
؎یہاں حق بمعنی ضروری و لازم ہے یعنی ملک،قوم اسلام کو بادشاہ حکام کی ضرورت ہے کہ ان سے دین بھی قائم ہے دنیا بھی برقرار۔
۴
؎یعنی عمومًا سردار ہیں دوزخی کہ اکثر لوگ حکومت پاکر ظلم و تعدی کرتے ہیں لہذا جسے سردار بننا پڑجائے وہ بہت احتیاط سے کام کرے کہ تلوار کی دھار پر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3699