Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3719

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَفْضَلَ عِبَادِ اللّٰهِ عِنْدَ اللّٰهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ عَادِلٌ رَفيقٌ، وَإِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰهِ مَنْزِلَةً يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ جَائِرٌ خَرِقٌ".

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن أفضل عباد الله عند الله منزلة يوم القيامة إمام عادل رفيق، وإن شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة إمام جائر خرق".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےکے بندوں میں افضل بندہکے نزدیک درجہ میں قیامت کے دن انصاف والا نرم دل بادشاہ ہے ۱؎اور قیامت کے دنکے نزدیک لوگوں میں بدترین درجہ والا ظالم سخت دل بادشاہ ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎رقیقیا تو ف سے ہے یا ق سے،رفقکے معنے ہیں نرمی و ہمراہی یعنی اہل قرابت،اجنبی شریف ضعیف سب کے ساتھ رہے یا رقیق القلب ہو دل میں اس کے سختی نہ ہو،ایسے بادشاہ کے زیر سایہ رعایا آرام سے رہے گی اور ملک میں امن وامان رہےگی ،اس وجہ سے یہتعالٰی کے نزدیک بڑے درجہ والا ہوگا۔
۲
؎خرقخ کے فتحہ اور ر کے کسرہ سے صفت مشبہ ہےخرقسے،خرق رفقکا مقابل ہے بمعنی سخت دل ظالم،اسی لیے خرق پھٹنے کو بھی کہتے ہیں،چونکہ سخت دلی کا نتیجہ ظلم ہے اس لیے اسے جور کے ساتھ جمع فرمایا یعنی قوم سے بدترین آدمی ظالم اور سخت دل بادشاہ ہے کہ اس سےکے بندوں کو دکھ پہنچتے رہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3719