Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3690

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْمُقْسِطِيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ عَلٰى مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ عَنْ يَمِيْنِ الرَّحْمٰنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِيْنٌ، الَّذِيْنَ يَعْدِلُوْنَ فِيْ حُكْمِهِمْ وَأَهْلِهِمْ وَمَا وَلُوْا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن المقسطين عند الله على منابر من نور عن يمين الرحمن، وكلتا يديه يمين، الذين يعدلون في حكمهم وأهلهم وما ولوا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ انصاف والے حکام ۱؎کے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے ۲؎رب کی داہنی طرف اور رب کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۳؎وہ لوگ جو اپنے حکم میں اور اپنے بال بچوں میں اور جن کے حاکم ہوں ان میں انصاف کریں۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎مقسطباب افعال کا اسم فاعل ہے،اس کا مادہقسطہے بمعنی حصہ مگر اس میں لطف یہ ہے کہ مجرد کا اسم فاعلقاسطبمعنی ظالم آتا ہے یعنی دوسروں کا حصہ ظلمًا لے لینے والا اور باب افعال کا اسم فاعل بمعنی عادل آتا ہے یعنی لوگوں کو انکا حصہ دینے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَمَّا الْقٰسِطُوۡنَ فَکَانُوۡا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا"بعض شارحین نے فرمایا کہقسطبمعنی ظلم ہے باب افعال کا ہمزہ سلب کے لیے ہے لہذااقساطکے معنے دفع ظلممقسطبمعنی دفع ظلم کرنے والا یعنی عادل یا قاسط بنا قسوط بمعنی ظلم سے اور مقسط بنا ہے بمعنی انصاف سے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیۡنَ"۔غرضکہ اس کلمہ میں عجیب خوبی ہے۔
۲
؎منابرجمع ہےمنبرکی اور منبر اسم آلہ یا ظرف ہے منبر مصدر کا بمعنی اٹھانا اور چڑھانا،منبر چڑھانے اٹھانے کا آلہ یا اس کی جگہ۔ محشر میں مؤمنوں کے مقامات مختلف ہوں گے کوئی مشک کے ٹیلوں پرکوئی نور کے منبروں پر۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں منبر اپنے حقیقی معنے میں ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔
۳
؎داہنا فرمانا صرف سمجھانے کے لیے ہے،بادشاہوں کے ہاں جسے عزت دیتے ہیں اسے سلطان کی داہنی طرف جگہ دیتے ہیں،قرب وعزت کے بیان کے لیے یمین فرمایا گیا اور ظاہری معنے سے براءت کے لیے ارشاد ہوا کہکے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔خیال رہے کہتعالٰی کی طرف یمین کی نسبت تو کی جاتی ہے مگر شمال میں بائیں کی نسبت نہیں کی جاتی کہ یمین بنا ہے یمن سے بمعنی برکت،شمال کی نسبت رب کی طرف بے ادبی ہے۔(ازمرقات)
۴
؎حکمہمسے مراد ہے سلطنت و حکومت و قضاء جس کا تعلق عام رعایا سے ہے اوراھلھمسے مراد اپنے بال بچے نوکر چاکر ہیں جن کا تعلق گھر سے ہے اورماولواسے مراد وہ یتیم بیوگان وغیرہ ہیں جن کی پرورش اس کے ذمہ آن پڑی ہے۔غرضکہ سیاست مدنی اور تدبیر منزل سب میں عدل و انصاف کرتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہماولوامیں خود اپنی ذات بھی داخل ہے یعنی اپنے متعلق بھی انصاف سے کام لیتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہتعالٰی نے اپنے محبوب کی امت کی تین قسمیں فرمائیں:ظالم،مقتصد اور سابق ،سابق وہ ہے جو اپنے اندر عدل و احسان دونوں جمع کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3690