Main Icon

باب:حاکم اور قاضی بننے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3700

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُعِيْذُكَ بِاللّٰهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ"، قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "أُمَرَاءُ سَيَكُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلٰى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسُوْا مِنِّيْ، وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَلَنْ يَرِدُوْا عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُم بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلٰى ظُلْمِهِمْ، فَاُولٰٓىٕكَ مِنِّيْ، وَأَنَا مِنْهُمْ، وَاُولٰٓىٕكَ يَرِدُوْن عَلَيَّ الْحَوْضَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن كعب بن عجرة قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أعيذك بالله من إمارة السفهاء"، قال: وما ذاك يا رسول الله؟ قال: "أمراء سيكونون من بعدي، من دخل عليهم فصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم، فليسوا مني، ولست منهم، ولن يردوا علي الحوض، ومن لم يدخل عليهم ولم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم، فاولىك مني، وأنا منهم، واولىك يردون علي الحوض". رواه الترمذي والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں احمقوں کی سلطنت سے تم کوکی پناہ میں دیتا ہوں ۲؎انہوں نے عرض کیا یارسولوہ کیا چیز ہے۳؎فرمایا کچھ سلاطین میرے بعد ہوں گے ۴؎جو ان کے پاس گیا ان کے جھوٹ کو سچ کہا اور ظلم پر ان کی مدد کی تونہ وہ مجھ سے ہے اور نہ ہی میں ان سے ۵؎اور وہ حوض پر میرے پاس ہرگز نہ پہنچیں گے ۶؎اور جو ان کے پاس نہ گیا اور نہ سچ کہا ان کے جھوٹ کو اور نہ ان کی ظلم پر مدد کی تو وہ میرے ہی ہیں اور میں ان کا ہوں اور وہ حوض پر میرے پاس پہنچیں گے ۷؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎عجرہعین اور جیم کے پیش اوررکے فتحہ سے ہے،آپ صحابی ہیں،انصار کے حلیف ہیں،بعض نے کہا انصار سے ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے۔آپ کے اسلام کا واقعہ یہ ہوا کہ آپ کا ایک بت تھا جس کی آپ پرستش کرتے تھے،حضرت عبادہ ابن صامت سے آپ کی بڑی پرانی دوستی تھی،ایک دن حضرت عبادہ ان سے ملنے گئے جب ان کے گھر سے نکلے تو چپکے سے اس بت کے ٹکڑے کر ڈالے جب آپ نے اپنے بت کی یہ حالت دیکھی تو قریب تھا کہ حضرت عبادہ سے الجھ پڑیں مگر دل سے آواز آئی کہ اے کعب اگر بت میں خدائی ہوتی تو اپنے کو بچالیتا،جو اپنی مدد خود نہ کرسکا وہ تیری مدد کیا کرے گا اسی وقت مسلمان ہوگئے۔(اشعہ)آخر میں کوفہ میں قیام رہا مگر مدینہ منورہ میں وفات پائی،پچھتر سال عمر ہوئی، ۵۱ھ؁ ∞ میں وصال ہوا،مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔(مرقات)
۲
؎سفہاءجمع ہےسفیہکی اورسفیہبنا ہےسفہسے بمعنی خفت و ہلکا پن،سفیہکے معنے ہیں ہلکی عقل والا یعنی کم عقل یعنی تم کوکی امان میں دیتا ہوں اس سے کہ تم پر احمق بادشاہوں کا داؤ چلے یا اس لیے کہ تم ان کی طرف مائل ہو۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ تم نا اہل بادشاہوں کا زمانہ پاؤ گے مگران شاءاﷲان کے شر سے محفوظ رہو گے،جسے حضور اپنے دامن میں چھپالیں اس کا کوئی کیا بگاڑے۔شعر
ڈھونڈھا ہی کریں صدر قیامت کے سپاہی وہ کس کو ملے جو تیرے دامن میں چھپا ہو
۳
؎یعنی یہ سلطنت کیسے ہوگی،کیا کرے گی اور کب ہوگی اور اس کا انجام کیا ہوگا۔
۴
؎ظالم،جھوٹے،بے عقل جیسے یزید ابن معاویہ،حجاج ابن یوسف وغیرہم،اس میں حضرات خلفاء راشدین داخل نہیں ورنہ پھر حضرت علی بھی اسی وعید میں داخل ہوں گے جو آگے آرہی ہے خود حضرت کعب ابن عجرہ نے بھی یہ خلافتیں پائیں اور ان کی حمایت کی،بہرحال جو ہم نے عرض کیا وہ ہی درست ہے۔
۵
؎یعنی وہ مجھ سے بےتعلق ہیں اور میں ان سے بیزار ہوں۔کی پناہ!خیال رہے کہ ظلم پر مدد کرنے کی کئی صورتیں ہیں:ان ظالموں کو ظلم کی رغبت دینا،ان کے ظلمی قانون کو رائج کرنا،ان کے ظلم میں ان کا ہاتھ بٹانا،ان کے ظلم کی حمایت کرنا یہ کہنا کہ یہ احکام حق ہیں،غرضکہ اس میں بہت وسعت ہے۔کسی درزی نے حضرت سفیان ثوری سے پوچھا کہ ظالم حکام کے کپڑے سینا کیسا تو آپ نے فرمایا کہ جو ظالم سلطان کے کپڑے سینے کے لیے درزی کے ہاتھ سوئی فروخت کرے وہ اس آیۃ کریمہ میں داخل ہے "وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا"الایہ۔(مرقات)
۶
؎یعنی حوض کوثر پر جو جنت میں ہے یا اس کی نہر پر جو میدان محشر میں ہے جہاں حضور کی امت پانی پی کر حشر کی پیاس بجھائے گی مطلب یہ ہے کہ فائزین کے ساتھ نہ پہنچیں گے۔
۷
؎خلاصہ یہ ہے کہ ان ظالموں سے قریب ہونا مجھ سے دور ہونا ہے اور ان سے دور ہونا مجھ سے قریب ہونا ہے۔حضرت عبدابن مسعود فرماتے ہیں کہ جو ظالم کے ظالمانہ حکم سے راضی ہو اگرچہ اس ظالم سے غائب ہو مگر وہ حاضر ہے اور آپ نے یہ ہی آیت پڑھی"وَلَا تَرْکَنُوۡۤ"الایہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3700