Main Icon

باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3329

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنُهَا أَفَنَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: "لَا"، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وعشرٌ، وَقد كَانَت إِحْدَاكُنَّ فِي الجاهليَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أم سلمة قالت: جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إن ابنتي توفي عنها زوجها، وقد اشتكت عينها أفنكحلها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا" مرتين أو ثلاثا، كل ذلك يقول: "لا"، ثم قال: "إنما هي أربعة أشهر وعشر، وقد كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں بولیں یارسول امیری اس بچی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اورا س کی آنکھیں دکھتی ہیں تو کیا ہم اسے سرمہ لگائیں ۱؎تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نہیں دو بار یا تین بار ہر دفعہ یہ ہی فرماتے تھے نہیں ۲؎پھر فرمایا اب تو چار ماہ دس دن ہی ہیں زمانہ جاہلیت میں تو تم میں سے ہر ایک پورے سال پر مینگنی پَھینکتی تھی ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی عورت پر عدت میں سوگ واجب ہے ترک زینت اور سرمہ بھی زینت میں داخل ہے مگر مجبوری یہ ہے کہ اس مجبوری میں سرمہ لگانا جائز ہے یا نہیں۔
۲
؎یعنی وہ بار بار سوال دھراتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر بار انکار فرمادیتے تھے، اس حدیث کی بنا پر امام احمد فرماتے ہیں کہ سیاہ سرمہ جس میں زینت ہوتی ہے عدت وفات میں ہرگز جائز نہیں خواہ بیماری ہو یا نہ ہو، امام مالک کے ہاں بیماری میں جائز ہے، امام شافعی کے ہاں بیماری میں رات کو لگالے دن میں صاف کردے ہمارے ہاں بھی بیماری میں دواءً لگانا درست ہے بشرطیکہ سرمہ کے سواء اور کوئی دوامفید نہ ہو یہاں دوسری دوا مفید ہوگی اس لیے منع فرمایا۔
۳
؎اسلام سے پہلے عرب میں بیوہ عورت خاوند کے انتقال کے بعد ایک سال تک برے مکان برے لباس میں رہتی اور تمام گھر والوں سے علیحدگی اختیار کرتی تھی سال کے بعد اس کے قرابتدار جمع ہوتے اور کوئی جانور اس کے پاس لاتے جسے وہ اپنی شرمگاہ سے لگاتی تھی اکثر وہ جانور مرجاتا تھا پھر اس کے قرابتدار اسے اونٹ یا بکری کی مینگنی دیتے تھے جسے وہ اپنے ہاتھ سے پَھینکتی تھی یہ مینگنی کا پھینکنا عدت کا پورا ہونا ہوتا تھا اس ارشاد عالی میں اس جانب اشارہ ہے یعنی اب تو تم چار ماہ دس دن کی عدت میں صبر نہیں کرسکتیں مگر زمانہ جاہلیت میں ایک سال تک عدت گزارتیں اور عدت کے زمانہ میں سخت پابندیاں برداشت کرتی تھیں۔خیال رہے کہ اسلام میں بھی پہلے وفات کی عدت ایک سال تھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَتٰعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیۡرَ اِخْرَاجٍ"پھر یہ حکم منسوخ ہو کر چار ماہ دس دن ہوا،اب بیوہ عورت کی عدت چار ماہ دس دن ہے خواہ صحبت و خلوت ہوئی ہو یا نہ بشرطیکہ عورت حاملہ نہ ہو حاملہ بیوہ کی عدت حمل جن دینا ہے عدت کے پورے مسائل ہمارے فتویٰ نعیمہ میں ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3329