Main Icon

باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3328

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ سُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأَذَنَتْهُ أَنْ تَنْكِحَ،فأَذِنَ لَهَا فَنَكَحَتْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن المسور بن مخرمة: أن سبيعة الأسلمية نفست بعد وفاة زوجها بليال، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم ، فاستأذنته أن تنكح،فأذن لها فنكحت. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مسور ابن مخرمہ سے کہ سبیعہ اسلیمہ اپنے خاوند ۱؎کی وفات کے چند دنوں بعد نفاس والی ہوگئیں ۲؎تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ سے نکاح کرلینے کی اجازت مانگی حضور نے انہیں اجازت دیدی تو انہوں نے نکاح کرلیا ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱؎اس کے خاوند سعد ابن خولہ تھے جو حجۃ الوداع میں مکہ معظمہ میں وفات پاگئے،بدر میں حاضر ہوئے تھے۔مسور ابن مخرمہ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں کہ یہ عبدالرحمن ابن عو ف کے بھانجہ ہیں ۲ھ؁ ∞ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور ۸ھ؁ ∞ میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔
۲
؎یعنی حاملہ تھیں اپنے خاوند کی وفات کے چند دن بعد بچہ پیدا ہوگیا تھا نفاس آنے سے یہ ہی مرادہے۔
۳
؎اس پر امت کا اجماع ہے کہ حاملہ کی عدت حمل جن دینا ہے،خواہ مطلقہ ہو یا وفات والی،اگرچہ طلاق یا وفات کے ایک منٹ بعد ہی بچہ پیدا ہوجائے،اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے بعض لوگوں نے کہا کہ اس کی عدتابعد الاجلینہے یعنی چار ماہ دس دن اور وضع حمل ہی سے جو بعد میں ہو وہ عدت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3328