Main Icon

باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3327

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّهُ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: طلقت خالتي ثلاثا، فأرادت أن تجد نخلها، فزجرها رجل أن تخرج، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "بلى فجدي نخلك، فإنه عسى أن تصدقي أو تفعلي معروفا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں ۱؎تو انہوں نے اپنے کھجوروں کے پھل توڑنا چاہے تو ایک شخص نے انہیں باہر جانے سے منع کیا ۲؎و ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں حضور نے فرمایا ہاں اپنے کھجوروں کے پھل توڑو ممکن ہے تم خیرات کرویا بھلے کام کرو ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یا ایک دم یا علیحدہ دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔
۲
؎اس خیال سے کہ بحالت عدت عورت کو گھر سے نکلنا ممنوع ہے۔
۳
؎یعنی تمہارے لیے دن میں گھر سے نکل کر باغ جانا وہاں پھل توڑنا جائز ہے کہ اس پھل سے تم نیک کام کرو گی،زکوۃ دینا،صدقہ و خیرات اور ہدیہ وغیرہ۔ خیال رہے کہ طلاق کی عدت میں عورت مزدوری کے لیے گھر سے باہر نہیں جاسکتی کیونکہ اس کا خرچہ طلاق دینے والے خاوند کے ذمہ ہے اسے مزدوری کی حاجت نہیں اور عدت وفات میں عورت مزدوری کے لیے دن میں باہر جاسکتی ہے رات گھر میں گزارے کیونکہ اس عدت میں خرچہ خاوند کے ذمہ نہیں،یہاں مزدوری کے واسطے نکلنا نہ تھا بلکہ اپنے مال کی حفاظت کے لیے تھا اس مجبوری میں اب بھی نکلنا درست ہے بشرطیکہ رات گھر میں آکر گزارے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3327