Main Icon

باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3330

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أم حبيبة وزينب بنت جحش عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال، إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام حبیبہ اور زینب بنت جحش سے ۱؎وہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں نہیں حلال کسی ایسی عورت کو جو او قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۲؎یہ کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے خاوند کے اس پر چار ماہ دس دن ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دونوں بیبیاں امہات المؤمنین میں سے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ انکے حالات پہلے بیان ہو چکے۔
۲
؎لا یحلاور اقیامت پر ایمان فرمانا آئندہ حکم کی تائید کے لیے ہے یعنی یہ حکم اشد ضروری ہے اس پر عمل ہر مؤمن عورت کو چاہیے۔
∞۳
؎یعنی عورت کسی عزیز و قرابتدار کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے باپ بیٹا بھائی کوئی بھی فوت ہوجائے اس پر تین دن تک سوگ یعنی ترک زینت کرسکتی ہے مگر خاوند کی موت پر پوری عدت کے زمانہ میں سوگ کرے کہ نہ خوشبو لگائے نہ زینت کا لباس پہنے یہ مدت غیر حاملہ کے لیے ہے حاملہ کی عدت تو حمل جن دینا ہے وہ اس وقت تک سوگ کرے۔ اس حدیث سے ان نادان سنیوں کو عبرت لینی چاہیے جو محرم میں دس دن کوٹتے پیٹتے ہیں چار پائی پر نہیں سوتے اچھا لباس نہیں پہنتے کالے کپڑے پہنتے ہیں یہ سب حرام ہے اور روافض کی پیروی حضرات اہل بیت اطہار نے کبھی نہ کئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3330