Main Icon

باب:عدت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3325

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عائشةَ قَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي النُّقْلَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَتْ: مَا لِفَاطِمَةَ؟ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ تَعْنِي فِي قَوْلِهَا: لَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عائشة قالت: إن فاطمة كانت في مكان وحش فخيف على ناحيتها، فلذلك رخص لها النبي صلى الله عليه وسلم تعني في النقلة. وفي رواية: قالت: ما لفاطمة؟ ألا تتقي الله؟ تعني في قولها: لا سكنى ولا نفقة. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ فاطمہ ایک سنسان مکان میں تھیں ۱؎ان کے آس پاس پر خوف کیا گیا ۲؎اس لیے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اجازت دی یعنی منتقل ہو جانے کی ۳؎اور ایک روایت میں ہے فرماتی ہیں کیا ہوا فاطمہ کو کیا وہ اسے نہیں ڈرتیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ مطلقہ کو نہ مکان ہے نہ خرچہ ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وحشکے معنے ہیں خالی،اجاڑ جہاں رہنے سے وحشت و دہشت طاری ہو،اسی سے ہے وحشی جانور یعنی لوگوں سے متنفر اور انسانوں سے الگ رہنے والا۔
۲
؎یعنی چونکہ وہ گھر بستی اور آبادی میں نہ تھا اس لیے چوری وغیرہ کا خطرہ تھا۔
۳
؎یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا بنت قیس کو زمانہ عدت میں جو حضرت ابن ام مکتوم کے گھر چلے جانے کی اجازت دی گئی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ غیر حاملہ مطلقہ کو عدت گزارنے کے لیے خاوند کی طرف سے گھر نہیں ملتا گھر تو ملا تھا مگر خطرناک تھا ،اب بھی فقہاء فرماتے ہیں کہ عدت میں عورت ان مجبوریوں میں دوسرے گھر منتقل ہو کر عدت گزار سکتی ہے۔
۴
؎یعنی فاطمہ جو فتوی دیتی ہے کہ غیر حاملہ مطلقہ کو عدت کے زمانہ میں نہ خرچہ ملے نہ مکان اور اس فتویٰ کی سند میں اپنا مذکورہ واقعہ بیان کرتی ہیں اور اس حکم کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کرتی ہیں غلط ہے ان کے منتقل ہونے کی وجہ کچھ اور تھی وہ پوری بات بیان نہیں کرتیں ۔معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ام المؤمنین کا مذہب بھی یہ ہی ہے کہ طلاق کی عدت میں گھر اور خرچہ دونوں خاوند کے ذمہ ہے یہ ہی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے لہذا حدیث فاطمہ امام اعظم کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3325