Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1144

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلّٰى لِلّٰهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولٰى كُتِبَ لَهٗ بَرَاءَتَانِ: بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَةٌ مِنَ النِّفَاق ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من صلى لله أربعين يوما في جماعة يدرك التكبيرة الأولى كتب له براءتان: براءة من النار وبراءة من النفاق ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو الله کے لیئے چالیس دن باجماعت نماز پڑھے کہ پہلی تکبیر پاتا رہے تو اس کے لیئے دو پروانے لکھے جائیں گے ایک پروانہ آگ سے آزادی کا دوسرا نفاق سے آزادی کا ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس عمل کی برکت سے یہ شخص دنیا میں منافقین کے اعمال سے محفوظ رہے گا،اسے اخلاص نصیب ہوگا،قبر و آخرت میں عذاب سے نجات پائے گا۔خیال رہے کہ انسانی تبدیلیاں چالیس پر ہوتی ہیں،بچہ ماں کے پیٹ میں ۴۰ دن نطفہ،چالیس دن خون،پھر چالیس روز اور پارہ گوشت رہتا ہے،بعد ولادت ماں کو چالیس دن نفاس آسکتا ہے،چالیس سال میں عقل کامل ہوتی ہے اس لیئے یہاں بھی چالیس کا عدد مذکور ہوا۔ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص چالیس دن اخلاص اختیار کرے تو اس کے دل کی طرف زبان پر حکمت کے چشمے پھوٹیں گے۔یہ حدیث صوفیاء کے چلو ں کی اصل ہے۔مرقاۃ نے فرمایا سلف صالحین کی اگر کوئی جماعت چھوٹ جاتی تو سات سات روز تک لوگ تعزیت کے لیئے آتے۔تکبیر تحریمہ پانے کے معنی یہ ہیں کہ امام کی قرأت شروع ہونے سے پہلے مقتدی "سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ" پڑھ لے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1144