Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1147

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلیٰ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلٰى ثَقَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أ صَلّٰى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللهِ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَ صَلّٰى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَ صَلّٰى النَّاسُ؟» قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: «أَ صَلّٰى النَّاسُ» . قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذٰلِكَ فَصَلّٰى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي نَفْسِهٖ خِفَّةً وَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ قَالَ: «أَجْلِسَانِي إِلٰى جَنْبِهٖ» فَأَجْلَسَاهُ إِلٰى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ. قَالَ عُبَيْدُ اللهِ : فَدَخَلْتُ عَلیٰ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ الا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي بِهٖ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهٗ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَليٌّ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عبيد الله بن عبد الله قال: دخلت علی عائشة فقلت ألا تحدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت بلى ثقل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أ صلى الناس؟» قلنا لا يا رسول الله وهم ينتظرونك فقال: «ضعوا لي ماء في المخضب» قالت ففعلنا فاغتسل فذهب لينوء فأغمي عليه ثم أفاق فقال صلى الله عليه وسلم : «أ صلى الناس؟» قلنا لا هم ينتظرونك يا رسول الله قال: «ضعوا لي ماء في المخضب» قالت فقعد فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه ثم أفاق فقال: «أ صلى الناس؟» قلنا لا هم ينتظرونك يا رسول الله فقال: «ضعوا لي ماء في المخضب» فقعد فاغتسل ثم ذهب لينوء فأغمي عليه ثم أفاق فقال: «أ صلى الناس» . قلنا لا هم ينتظرونك يا رسول الله والناس عكوف في المسجد ينتظرون النبي صلى الله عليه وسلم لصلاة العشاء الآخرة. فأرسل النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر بأن يصلي بالناس فأتاه الرسول فقال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرك أن تصلي بالناس فقال أبو بكر وكان رجلا رقيقا يا عمر صل بالناس فقال له عمر أنت أحق بذلك فصلى أبو بكر تلك الأيام ثم إن النبي صلى الله عليه وسلم وجد في نفسه خفة وخرج بين رجلين أحدهما العباس لصلاة الظهر وأبو بكر يصلي بالناس فلما رآه أبو بكر ذهب ليتأخر فأومأ إليه النبي صلى الله عليه وسلم بأن لا يتأخر قال: «أجلساني إلى جنبه» فأجلساه إلى جنب أبي بكر والنبي صلى الله عليه وسلم قاعد. قال عبيد الله : فدخلت علی عبد الله بن عباس فقلت له الا أعرض عليك ما حدثتني به عائشة عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال هات فعرضت عليه حديثها فما أنكر منه شيئا غير أنه قال أسمت لك الرجل الذي كان مع العباس قلت لا قال هو علي (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید الله ابن عبد الله سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا آپ مجھے حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے مرض کی بابت کچھ نہ بتائیں گی فرمایا ہاں ضرور ۱؎حضور انور صلی الله علیہ وسلم بہت بیمار ہوگئے تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسول الله نہیں وہ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں ہم نے کردیا ۲؎آپ نے غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۳؎پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے کہا یارسو ل الله نہیں وہ آپ کا انتظار کررہے ہیں فرمایا ہمارے لیئے لگن میں پانی رکھو فرماتی ہیں پھر حضور بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی ۴؎پھر کچھ افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا یارسول الله نہیں وہ لوگ آپ کے منتظر ہیں فرمایا ہمارے لیے لگن میں پانی رکھو پھر بیٹھے پھر غسل کیا پھر اٹھنے لگے تو بے ہوش ہوگئے ۵؎پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض نہیں یارسول الله وہ آپ کے منتظر ہیں اور لوگ مسجد میں ٹھہرے ہوئے آخری عشاء کے لیئے حضور صلی الله علیہ وسلم کا انتظار کرتے تھے ۶؎تب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق کو پیغام بھیجا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ کے پاس قاصد آیا ۷؎عرض کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم آپ کو حکم دیتے ہیں کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۸؎ابوبکر صدیق نرم دل تھے فرمایا اے عمر تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ ۹؎عمر فاروق نے عرض کیا کہ اس کے حقدار آپ ہی ہیں ۱۰؎چنانچہ اس زمانے میں ابوبکر صدیق نماز پڑھاتے رہے پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے نفس میں ہلکا پن پایا اور دو شخصوں کے درمیان نماز ظہر کے لیئے نکلے جن میں سے ایک عباس تھے ۱۱؎اور ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر صدیق نے آپ کو دیکھا تو پیچھے جانے لگے ۱۲؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ جاؤ فرمایا کہ ابوبکر کے برابر بٹھا دو ان دونوں نے آپ کو ابوبکر کے برابر بٹھاد یا اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۱۳؎عبید الله کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت عبد الله ابن عباس کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھے حضرت عائشہ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق سنائی فرمایا لاؤ میں نے ان پر ان کی پوری حدیث پیش کردی آپ نے اس کا کچھ بھی انکار نہ کیا بجز اس کے فرمایا کیا حضرت عائشہ نے تمہیں ان صاحب کا نام بھی بتایا جو حضرت عباس کے ساتھ تھے میں نے کہا نہیں فرمایا وہ علی تھے ۱۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مرض سے مراد مرض وفات شریف ہے،چونکہ اس زمانہ میں ام المؤمنین ہی حضور صلی الله علیہ وسلم کی تیمار دار رہی ہیں۔اس لیئے صحابہ کرام آپ ہی سے اس مرض کے حالات پوچھا کرتے تھے۔خیال رہے کہ یہ سائل حضرت عبید الله ابن عبد الله ابن عتبہ ابن مسعود ہذلی ہیں۔یعنی عبد الله ابن مسعود کے بھتیجے اور عمر بن عبدالعزیز کے استاد،فقہائے مدینہ میں سے تھے،تابعی تھے،نابینا تھے،۹۲ھ∞میں وفات پائی۔حق یہ ہے کہ ان کے والد بھی تابعی ہیں،ان کی وفات۷۴ھ ∞میں ہوئی۔
۲
؎مخضب اور مرکن قریبًا ہم معنی ہیں۔یعنی کپڑے دھونے کا برتن۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو نماز جماعت سے کتنی محبت تھی کہ ایسی سخت تکلیف میں بھی جماعت ہی کی فکر ہے۔صحابہ کرام کا یہ عشق تھا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بغیر نماز نہ پڑھتے تھے اگرچہ قضا ہی ہوجائے۔
۳
؎شاید یہ غسل سے مراد وضو یا وضو کے لیئے ہاتھ دھونا ہے۔ورنہ ہر بار غسل کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی،نیز جب ضعف کا یہ حال ہے کہ جنبش پر غشی طاری ہوجاتی ہے تو غسل کیسے ہوسکتا ہے۔
۴
؎بے ہوشی ایک قسم کی بیماری ہے لہذا انبیائے کرام پر طاری ہوسکتی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَخَرَّ مَوْسٰی صَعِقًا"۔جنون خرابی عقل ہے اور عیب اس سے انبیاء کرام محفوظ ہیں۔بعض علماء کرام فرماتے ہیں کہ حضرات انبیاء پر غشی بھی گھڑی دو گھڑی کی آسکتی ہے نہ کہ مہینہ دو مہینہ کی کہ وہ غشی جنون کی مثل ہے۔
۵
؎بعض کا خیال ہے کہ یہ باربار غسل علاج کے لیئے تھا کہ بخار کا علاج غسل تھا مگر یہ صحیح نہیں کیونکہ عرب میں بعض بخاروں کا علاج سورج نکلنے کے وقت کا غسل ہے،نیز اگر علاجًا ہوتا تو یہ بعد نماز بھی ہوسکتا تھا۔
۶
؎نہ دروازہ عالیہ پر آواز دیتے تھے کہ بے ادبی ہے اور نہ اکیلے نماز پڑھتے تھے کہ اس میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی اقتداء سے محرومی ہے۔
۷
؎یعنی حضرت بلال مؤذن رسول الله بعض تاریخی روایات میں ہے کہ آپ روتے ہوئے آئے اور کہا کہ لوگو مدینہ اجڑ چلا،مسجد نبوی ویران ہوچلی آج بغیر حضور صلی الله علیہ وسلم کے جماعت ہوگی پھر یہ پیغام عرض کیا۔
۸
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ امروجوب کے لیئے ہے کیونکہ بعض روایات میں بھی ہے کہ فرمایا جہاں ابوبکر ہوں وہاں کسی کو امامت کا حق نہیں۔
۹
؎اس فرمان میں حکم سرکاری سے سرتابی نہیں بلکہ اظہار معذوری ہے کیونکہ آپ کو اندیشہ تھا کہ میں حضور صلی الله علیہ وسلم کا مصلیٰ خالی دیکھ کر صبر نہ کرسکو ں گا،لوگوں کو قرأت نہ سنا سکوں گا،چیخیں نکل جائیں گی۔
۱۰
؎یعنی میری کیا مجال کہ آپ کی موجودگی میں امام بنوں،آپ جناب مصطفے صلی الله علیہ وسلم کے انتخاب میں آچکے،آپ کی اس امامت سے لوگوں کی تقدیریں وابستہ ہوچکیں،اس سے بہت سے سربستہ راز کھلیں گے،آگے بڑھیئے الله آپ کو صبر دے گا۔
۱۱
؎یعنی داہنی طرف اور بائیں طرف بار ی باری سے حضرت علی مرتضٰے فضل ابن عباس اور اسامہ ابن زید جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔خیال رہے کہ یہ حضرات حضور صلی الله علیہ وسلم کی تیمارداری کی وجہ سے جماعت میں شریک نہ ہوئے وہ سمجھتے تھے کہ یہ آخری خدمت ہے جتنا موقع مل جائے غنیمت ہے۔شعر
نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں
نگاہوں کی قضائیں کب ادا ہوں
۱۲
؎معلوم ہوا کہ ان نمازوں میں صدیق اکبر بجائے سجدہ گاہ کے جناب مصطفی صلی الله علیہ وسلم کے حجرہ کو کنکھیوں سے دیکھتے تھے یعنی تن بکار او ر دل بیار پر عمل تھا ایسی کامل نماز کسے نصیب ہوسکتی ہے۔
۱۳
؎خیال رہے کہ یہ حضرات حضور انور صلی الله علیہ وسلم کو حجرے شریف سے محراب النبی تک لائے یعنی آدھی صف کے سامنے سے گزرے ان کے لیئے یہ گزرنا جائز تھا کیونکہ سرکار صلی الله علیہ وسلم کے حکم سے تھا۔شرعی حکم تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت ہے۔خیال رہے کہ صدیق اکبر نے اس زمانہ میں ۱۷ نمازیں پڑھائیں ہیں کیونکہ دو دن پہلے عشاء کے وقت آپ کو امام بنایا گیا اور آج ظہر کو یہ وقعہ ہوا۔
۱۴
؎بعض کم عقلوں نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ حضرت علی سے ناراض تھیں کیونکہ علی مرتضی نے تہمت کے موقعہ پر آپ کی حمایت پر زور نہ دیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ حضور آپ کو بیویاں اور بھی مل جائیں گی مگر یہ غلط ہے کیونکہ دوسروں سے عائشہ صدیقہ نے آپ کا نام لیا ہے جیسا کہ بہت سی روایات میں ہے۔(مرقاۃ)نیز تعجب ہے کہ ام المؤمنین یہاں تو علی مرتضٰی کا نا م تک نہ لیں ادھر آپ کے اکثر فضائل کی روایتیں حضرت عائشہ صدیقہ سے ہی مروی ہیں،نام نہ لیں فضائل بیان کریں یہ کیسے ہوسکتا ہے بلکہ اس کی وجہ وہی ہے جو ہم پہلے عرض کرچکے کہ اس جانب کچھ دور حضرت علی مرتضٰی رہے،کچھ دور فضل ابن عباس اور کچھ دور حضرت اسامہ ابن زید۔خیال رہے کہ یہ واقعہ ہفتہ یا اتوار کی ظہر کا ہے۔سوموار یعنی خاص وفات کے دن فجرکے وقت اولًا آپ نے پردہ اٹھا کر جماعت کو دیکھا اور دعائیں دیں،دوسری رکعت میں تشریف لا کر نماز میں شریک ہوگئے پہلے دن حضور صلی الله علیہ وسلم امام ہوئے ہیں اور صدیق مقتدی مگر سوموار کی فجر میں صدیق اکبر ہی امام رہے ہیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے آپ کے پیچھے ایک رکعت پڑھی ہے اور اسی دن وفات شریف ہوگئی۔یہ مرقاۃ کی تحقیق ہے اور اس سے تمام روایتیں جمع ہوجاتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1147