Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1143

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهُ شَيْئًا وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا جئتم إلى الصلاة ونحن سجود فاسجدوا ولا تعدوه شيئا ومن أدرك ركعة فقد أدرك الصلاة».رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم نماز کو آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کرلو اور اسے کچھ شمار نہ کرو ۱؎اور جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت پالی ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سجدہ ملنے سے رکعت نہ ملے گی ہاں ثواب مل جائے گا،شیئًاسے یہی مراد ہے۔
۲
؎اس حدیث کے دو مطلب ہیں:ایک یہ کہ رکعت سے مراد رکوع ہے اور صلوۃ سے مراد رکعت یعنی رکوع مل جانے سے رکعت مل جاتی ہے۔معلوم ہوا کہ مقتدی پر سورہ فاتحہ پڑھنا فرض نہیں ورنہ فرض رہ جانے پر رکعت نہ ملتی۔دوسرے یہ کہ رکعت سے مراد رکعت ہے اور صلوۃ سے مراد نماز یعنی جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پالی اسے جماعت مل گئی۔اس لیئے امام محمد نے فرمایا کہ جمعہ اسے ملے گا جسے امام کے ساتھ ایک رکعت مل جائے کیونکہ اس سے کم ملنے پر جماعت نہیں ملتی اور جماعت جمعہ میں شرط ہے مگر شیخین فرماتے ہیں کہ جو سلام سے پہلے جماعت میں داخل ہوگیا اس کو جمعہ مل گیا حتی کہ اگر امام کے سجدہ سہو میں مل گیا تب بھی جمعہ مل جائے گا،تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔
واقعہ عجیبہ: اس جگہ ملا علی قاری نے حدیث کے ضعف اور قوت پر بحث کرتے ہوئے مرقاۃ میں فرمایا کہ شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ مجھے حدیث پہنچی تھی کہ جو ستر ہزار بار کلمہ شریف پڑھ لے یا پڑھ کر کسی کو بخش دیا جائے تو اس کی مغفرت ہوتی ہے میں نے اتنا کلمہ پڑھ لیا تھا،ایک دن میرے ہاں دعوت میں ایک صاحب کشف جوان حاضر تھا اچانک رونے لگا،سبب پوچھا بولا کہ میں اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں،میں نے اپنے دل میں پڑھا ہوا وہ کلمہ اس کی ماں کو بخش دیا وہ جوان اچانک ہنس پڑا اور بولا کہ اب میں اسے جنت میں دیکھتا ہوں،میں نے اس حدیث کی صحت اس ولی کے کشف سے معلوم کی اور اس کے کشف کی صحت حدیث سے۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اولیاء کے سامنے جنت دوزخ وہاں رہنے والے سب ہیں۔اور مروجہ تیجہ جس میں چنوں پر سوا لاکھ کلمہ طیبہ پڑھوا کر بخشا جاتا ہے درست ہے۔یہ واقعہ مولوی محمد قاسم نے بھی تحذیر الناس میں حضرت جنید بغدادی کی طرف منسوب کیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1143