Main Icon

باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1138

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوْا وَإِذا قَالَ: وَلَاالضَّآلِّیْنَ. فَقُولُوا: آمِينَ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَقُولُوا: اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَك الْحَمد "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمْ يَذْكُرْ: " وَإِذَا قَالَ: وَلَاالضَّآلِّیْنَ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا تبادروا الإمام إذا كبر فكبروا وإذا قال: ولاالضالین. فقولوا: آمين وإذا ركع فاركعوا وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد "(متفق عليه) إلا أن البخاري لم يذكر: " وإذا قال: ولاالضالین

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے امام سے جلدی نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ کہےوَلَاالضَّآلِّیْنَتو تم کہوآمین۱؎اور جب رکوع کرے تم رکوع کرو اور جب کہےسَمِعَ الله لِمَنْ حَمِدَہتو تم کہواَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد۲؎(مسلم،بخاری) مگر بخاری نے ذکر نہ کیا کہ جب وہوَلَاالضَّآلِّیْنَکہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز کے اقوال و افعال سب میں امام سے پیچھے رہو آگے نہ بڑھو۔خیال رہے کہ دیگر تکبیروں میں مقتدی کا امام سے آگے بڑھنا مکروہ ہے مگر تکبیر تحریمہ میں آگے بڑھنا نماز کو فاسد کردے گا،وہاں ضروری ہے کہ امام کے بعد تکبیر کہے ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس تقسیم سے معلوم ہورہا ہے کہ مقتدی سورۂ فاتحہ نہ پڑھے گا کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ جب تم "وَلَاالضَّآلِّیْن"کہو تو تم "آمین" کہو۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں کلمے امام اور مقتدی پرتقسیم کیئے گئے ہیں،یہی ہمارا مذہب ہے یہاں "اَللّٰھُمَّ" بھی آگیا اور روایات میں نہیں ہر طرح جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1138