Main Icon

باب:کشمش وغیرہ کے شربتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4287

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ وَلَهٗ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهٗ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهٗ عِشَاءً وَنَنْبِذُهٗ عِشَاءً فَيَشْرَبُهٗ غُدْوَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة قالت: كنا ننبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في سقاء يوكأ أعلاه وله عزلاء ننبذه غدوة فيشربه عشاء وننبذه عشاء فيشربه غدوة. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشکیزہ میں نبیذ بناتے تھے ۱؎جس کا دہانہ باندھ دیا تھا اور اس کا دہانہ تھا۲؎صبح نبیذ بناتے تو وہ شام کو پیتے اور شام کو نبیذ بناتے وہ حضور صبح کو پیتے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎نبیذبنا ہےنبذسے بمعنی پھینکنا،ڈالنا،پھر پھینکی ہوئی چیز کو نبیذ کہنے لگے،اس کے بعد اس پھینکنے کے نتیجہ کو نبیذ کہنے لگے، یہاں آخری تیسرے معنی مراد ہیں یعنی ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجوروں یا کشمکش کا نبیذ تیارکرتے تھے کہ شام کو کھجوریں بھگو دیتے تھے۔
۲
؎یعنی اس مشکیزہ کے دو منہ تھے:ایک اوپر والا جس سے پانی وغیرہ بھرا جاتا تھا،دوسرا نیچے والا جس سے پانی وغیرہ نکالا جاتا تھا۔عزلاءہر منہ کو کہا جاتا ہے۔یہاں نیچے والا منہ مراد ہے کیونکہ اوپر والے منہ کا ذکر تو الگ ہوچکا۔
۳
؎نماز فجر اور طلوع آفتاب کے درمیانی وقت کوغدوہ(غبن کے پیش سے )کہا جاتا ہے اور سورج ڈھلے سے مغرب تک کے وقت کو عشاء(عین کے کسرہ سے)کہا جاتا ہے یعنی صبح کے بھگوئے ہوئے چھواروں کا پانی حضور انور دوپہر کے بعد سے شام تک پی لیتے تھے اور شام کے بھگوئے ہوئے چھوارے صبح کو پی لیتے تھے زیادہ دیر نہ لگائی جاتی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4287