Main Icon

باب:کشمش وغیرہ کے شربتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4291

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَإِنَّ ظَرْفًا لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهٗ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن بريدة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: نهيتكم عن الظروف فإن ظرفا لا يحل شيئا ولا يحرمه وكل مسكر حرام . وفي رواية: قال: نهيتكم عن الأشربة إلا في ظروف الأدم فاشربوا في كل وعاء غير أن لا تشربوا مسكرا . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تم کو برتنوں سے منع کیا تھا مگر برتن نہ کسی چیز کو حلال کرتا ہے نہ حرام ۱؎ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے تم کو شربتوں سے منع کیا تھا سوا چمڑے کے برتنوں میں تم ہر برتن میں پیو سوا اس کے کہ نشہ آور چیز نہ ہو۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث پچھلی حدیث کی ناسخ ہے یعنی حرمت و حلت برتن پر موقوف نہیں بلکہ نشہ پر موقوف ہے۔یہ حدیث اس وقت کی ہے جب لوگ ترک شراب کے عادی ہوچکے تھے اور نشہ آور اور غیر نشہ آور میں تمیز کرسکتے تھے حالات بدل گئے حکم بدل گیا۔
۲
؎خیال رہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خمر یعنی انگوری شراب تو حرام بعینہ ہے کہ اس کا ایک قطرہ بھی حرام ہے،اس کے ماسوا دوسری نشہ آور چیزیں خواہ پتلی ہوں جیسے جوار وغیرہ کی شراب یا خشک جیسے افیون،بھنگ وغیرہ نشہ دیں تو حرام ہیں ورنہ حرام نہیں بشرطیکہ لہو و لعب کے لیے استعمال نہ کرے۔دوسرے اماموں کے ہاں ہر پتلی نشہ آور چیز مطلقًا حرام ہے نشہ دے یا نہ دے،خشک نشہ آور چیزیں حد نشہ سے کم حلال ہیں۔یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ حضور انور نے حرمت کو نشہ پر موقوف فرمایا،فتویٰ قول صاحبین پر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4291