Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 653

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: حَدَّثَنِيْ أَبِي عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِيْ أُذُنَيْهِ وَقَالَ: "إِنَّهٗ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن عبد الرحمن بن سعد بن عمار بن سعد مؤذن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: حدثني أبي عن أبيه عن جده: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أمر بلالا أن يجعل أصبعيه في أذنيه وقال: "إنه أرفع لصوتك". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن سعدبن عماربن سعدمؤذن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے میرے والد نے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیں فرمایا یہ عمل تمہاری آواز کو بلند کرنے والاہے ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سعدقرظی ہیں جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجدقبا کے مؤذن تھے اورحضور کے بعدحضرت بلال کی جگہ آپ مسجد نبوی کےمؤذن ہوئے۔خیال رہے کہ سعدقرظی صحابی ہیں اورعمار ابن سعدتابعی اور عبدالرحمن ابن سعد کاحال معلوم نہ ہوسکا۔(اشعہ)
۲
؎یعنی انگلیاں کانوں میں ڈالنے سے آوازبلندنکلتی ہے اوراس اذان میں بلند آوازچاہیئے،اس لیے ڈال لیا کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ بچے کے کان میں اذان کے وقت انگلیاں کانوں میں لگانا سنت نہیں۔یوں ہی اقامت(تکبیر)میں،یوں ہی ہر اس جگہ جہاں بلندآوازمطلوب نہ ہو،لیکن اگر لاؤڈ اسپیکر پراذان کہی جاوے تو انگلیاں لگالے کہ یہاں بلندی آواز مطلوب ہے۔اذان قبر پر انگلیاں لگائے کہ وہاں بلند آواز مطلوب ہے اس اذان سے شیاطین بھاگتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 653