Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 643

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الأَذَانُ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ.

عن ابن عمر قال: كان الأذان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مرتين مرتين، والإقامة مرة مرة، غير أنه كان يقول: قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة. رواه أبو داود والنسائي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دو دو بار تھی اور تکبیر ایک بارسواء اس کے کہ مؤذن کہتا تھاقَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ۱؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱؎یعنی کلمات اذان دوبارکہے جاتے تھے اوراقامت کے کلمات ایک ایک بار۔خیال رہے کہ یہ حدیث اگر صحیح ہوتو یامنسوخ ہے یا اس کی تاویل واجب۔مخالفین اس سے اپنا مدعا ہرگز ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اذان کی دونوں شہادتوں میں ترجیع کے قائل ہیں جس سے یہ دونوں کلمے چارچاربارکہے جاتے ہیں۔اور یہاں آیا کہ اذان کے سارے کلمے دو دوبارکہے جاتے تھے،نیز وہ حضرات اقامت میں اولًا تکبیرچارباراورآخر میں دوبارکہتے ہیں مگر یہاں آیا کہ اقامت کے سارے کلمے ایک ایک بار ہیں،نیز اگرتکبیرکے کلمات ایک ایک بار ہوتے تو صحابہ کرام حضورکے بعدیہ عمل چھوڑ نہ دیتے۔بیہقی شریف میں ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اقامت ایک ایک بارکہہ رہا ہے،آپ ناراض ہوئے اورفرمایا"اِجْعَلْھَا مَثْنٰی مَثْنٰی لَا اُمَّ لَكَ"یعنی تیری ماں مرے دو دو بار کہہ،اب دو ہی صورتیں ہیں:یا اس حدیث کو منسوخ مانو جس کی ناسخ اگلی حدیث ہےیا اس میں یہ تاویل کی جائے کہ یہ دائمی عمل نہ تھا بلکہ کبھی کسی عارضہ کی بناءپرہواتھایا اذان اوراقامت کے لغوی معنی مراد لئے جائیں جیسے پہلے عرض کیاجاچکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 643