Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 650

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبَّهٖ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهٖ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ، طَافَ بِيْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ ناقُوسًا فِيْ يَدِهٖ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ أَتَبِيْعُ النَّاقُوْسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهٖ؟ قُلْتُ: نَدْعُوْ بِهٖ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذٰلِكَ ؟ فَقُلْتُ لَهٗ: بَلٰى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُوْلُ: اللّٰهُ أَكْبَرُ. . . إِلَى آخِرِهٖ، وَكَذَا الإِقَامَةُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهٗ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: "إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ، فَلْيُؤَذِّنْ بِهٖ،فَإِنَّهٗ أَنْدٰى صَوْتًا مِنْكَ" فَقُمْت مَعَ بِلَالٍ، فَجعَلتُ أُلْقِيْهِ عَلَيْهِ وُيُؤَذِّنُ بِهٖ، فَقَالَ: فَسَمِعَ بِذٰلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِيْ بَيْتِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهٗ يَقُوْلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا أُرِيَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الإِقَامَةَ.وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَكِنَّهٗ لَمْ يُصَرِّحْ قصَّةَ النَّاقُوْسِ.

وعن عبد الله بن زيد بن عبد ربه قال: لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناقوس يعمل ليضرب به للناس لجمع الصلاة، طاف بي وأنا نائم رجل يحمل ناقوسا في يده، فقلت: يا عبد الله أتبيع الناقوس؟ قال: وما تصنع به؟ قلت: ندعو به إلى الصلاة، قال: أفلا أدلك على ما هو خير من ذلك ؟ فقلت له: بلى، قال: فقال: تقول: الله أكبر. . . إلى آخره، وكذا الإقامة، فلما أصبحت أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته بما رأيت، فقال: "إنها لرؤيا حق إن شاء الله، فقم مع بلال فألق عليه ما رأيت، فليؤذن به،فإنه أندى صوتا منك" فقمت مع بلال، فجعلت ألقيه عليه ويؤذن به، فقال: فسمع بذلك عمر بن الخطاب وهو في بيته، فخرج يجر رداءه يقول: يا رسول الله! والذي بعثك بالحق لقد رأيت مثل ما أري، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فلله الحمد". رواه أبو داود والدارمي وابن ماجه إلا أنه لم يذكر الإقامة.وقال الترمذي: هذا حديث صحيح لكنه لم يصرح قصة الناقوس.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن زید ابن عبدربہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کاحکم دیناچاہا تاکہ جماعت نمازکے واسطے لوگوں کے لئےبجایاجائے ۲؎تو مجھے خواب میں ایک شخص دکھائی دیاجواپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے تھا میں نے کہا رب کے بندے کیا توناقوس بیچتا ہے وہ بولا اس کا تم کیاکروگے میں نے کہا اس سے نماز کے لئےبلایا کریں گے ۳؎وہ بولا کیا تمہیں اس سے اچھی چیز نہ بتا دوں۴؎میں نے کہاہاں فرماتے ہیں وہ بولاکہوالله اکبرآخر تک اور اس طرح تکبیر ۵؎جب صبح ہوئی میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوا جو کچھ دیکھا تھاحضور سے عر ض کیا فرمایا بفضلہ تعالٰی یہ خواب سچی ہے ۶؎تم بلال کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ جو کچھ خواب میں دیکھا ہے انہیں بتاتے جاؤ وہ اذان دیں کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں ۷؎میں حضرت بلال کے ساتھ کھڑا ہوگیا میں انہیں بتانے لگا وہ اذان دینے لگے ۸؎فرماتے ہیں یہ اذان حضرت عمرنے اپنے گھر میں سنی تو چادرگھسیٹتے ہوئے نکلے عرض کرنے لگے یارسولاللہ(صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کی قسم جس نے تمہیں حق دے کربھیجا ہے میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسا کہ انہوں نے ۹؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کاشکر ہے(ابوداؤد،دارمی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے تکبیر کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے ناقوس کا واقعہ صراحتًا بیان نہ کیا۱۰؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں،خزرجی ہیں،دوسری بیعت عقبہ میں ستر انصاریوں میں آپ بھی تھے،بدر اورتمام غزووں میں حضور انور کے ساتھ رہے،آپ خودبھی صحابی ہیں اور والدین بھی صحابی،آپ کا لقب صاحب اذان ہے کیونکہ انہی کی خواب پر اسلام میں اذان جاری ہوئی، اھمیں آپ نے یہ خواب دیکھا اور ۲ھمیں آپ کی وفات ہوئی،۶۴سال کی عمرشریف ہوئی،مدینہ پاک میں مدفون ہوئے۔
۲
؎یہاں امر سے بمعنی ارادۂ امر ہے،جیسا کہ مرقاۃ میں معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادۂ مبارک ناقوس بجانے کا ہوچکا تھا۔غالب یہ ہے کہ یہ عارضی ارادہ ہوگا کہ جب تک اس بارے میں وحی نہ آئے تب تک ناقوس سے کام لیا جائے،ورنہ حضورمعراج کی رات ملائکہ سے اذان سن چکے تھے جیسا کہ اسی جگہ مرقاۃ میں ہے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ انسان بیداری میں جس خیال میں رہتا ہے خواب میں بھی وہی کرتا اورکہتاہے انہیں خواب میں ناقوس دیکھ کر نمازیادآئی۔صوفیائے فرماتے ہیں کہ جس خیال میں جیو گے اسی خیال میں مرو گے اورمحشرمیں اٹھو گے۔خیال رہے کہ رب تعالٰی نے دوسرے احکام کی طرح حضور پر اذان کی وحی نہ بھیجی بلکہ صحابہ کے خواب کو درمیان میں رکھا،تاکہ لوگوں کو ان حضرات کی عظمت کا پتا لگے اورلوگ جانیں کہ جب ان بزرگوں کی خوابیں ایسی ہیں تو ان کی بیداری کے احکام کیسے پاکیزہ ہوں گے۔دیکھو اذان جیسا اسلامی شعارصحابہ کے خواب کا نتیجہ ہے ان کی نیند پرہم جیسے لاکھوں کی بیداریاں قربان۔
۴
؎جس میں یہود ونصاریٰ سے مشابہت بھی نہ ہو اورنمازکے اعلان کے ساتھ اللہ کا ذکر اورنماز کی ترغیب بھی ہوجائے،بے معنی آوازبھی نہ ہو۔
۵
؎یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ اذان میں ترجیع نہیں اورتکبیر کے کلمات ایک ایک نہیں کیونکہ اذان کی اصل یہ خواب ہے،نیز اسی پرصحابہ کا عمل رہا۔خیال رہے کہ اقامت میں"قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ"کا بڑھانا اورفجرکی اذان میں"اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ"کی زیادتی حضور کے اجتہادی حکم سے ہوئی۔
۶
؎کیونکہ ہم نے بھی یہ اذان معراج میں فرشتوں کی زبانی سنی تھی۔اے عبدرب نے تمہیں خواب میں دکھاکرہمیں اشارۃً فرمایا کہ اے حبیب!وہی فرشتوں والی اذان کیوں نہیں کہلواتے۔خیال رہے کہ یہاںان شاءاﷲبرکت کے لئےنہ کہ شک کے لئے،جیسے رب نے فرمایا:"لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَاللهُ"۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤمن کے خواب خصوصًا جب کہ نبوت کے ذریعہ اس کی تصدیق ہوجائے وحی کے حکم میں ہیں،پھرنبی کی خواب کا کیا پوچھنا،ابراہیم علیہ السلام خواب میں دیکھ کر اپنے فرزند کو ذبح کرنے پرتیار ہوگئے۔خواب تین قسم کے ہوتے ہیں:نفس کے خیالات،شیطانی وسوسے،ربانی الہام۔پہلے دوخواب اضغاث احلام کہلاتے ہیں اورجھوٹے ہوتے ہیں۔تیسرے خواب رویاءصادقہ۔خواب کی پوری تحقیقان شاءالله"کتاب الرؤیا" میں کی جائے گی۔
۷
؎اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ اذان میں بلند آوازمحبوب ہے،لہذا لاؤڈ اسپیکر پراذان بہت بہتر۔دوسرے یہ کہ یہ جائزہے ایک آدمی اذان بتاتا جائے دوسرا اذان کہتا جائے۔
۸
؎یعنی میں نے وہی اذان حضرت بلال کو بتائی جو فرشتہ سے سنی تھی جس میں ترجیع نہ تھی۔معلوم ہوا کہ اسلام کی پہلی اذان بغیرترجیع کے ہوئی اورسیدنا بلال آخر تک یہی اذان دیتے رہے ہیں۔
۹
؎معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم نے حضرت عبداللہ ابن زید کا خواب کشف سے معلوم کیایاآپ نے عبداللہ ابن زیدکو فرشتے سے گفتگو کرتے خواب میں دیکھا تھا کیونکہ ابھی آپ سے کسی نے حضرت عبداللہ کی خواب بیان نہ کی۔مرقاۃ نے فرمایا ظاہر یہی ہے کہ جناب عمرنے کشف سے معلوم کیا۔
۱۰
؎مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس رات دس سے زیادہ صحابہ نے قریبًا یہی خواب دیکھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر خدا کا شکر کیا،ابن قیم نے"کتاب الروح"میں لکھا کہ مسلمانوں کی خوابوں کا اجتماع اجتماع مسلمین کی طرح معتبر ہے اس پر یہی حدیث پیش کی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 650