Main Icon

باب :اذان کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 642

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مَحْذُوْرَةَ قَالَ: أَلْقٰى عَلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهٖ فَقَالَ: "قُلْ: اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ، ثُمَّ تَعُوْدُ فَتَقُوْلَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ،حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي محذورة قال: ألقى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم التأذين هو بنفسه فقال: "قل: الله أكبر الله أكبر، الله أكبر الله أكبر، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، أشهد أن محمدا رسول الله ، ثم تعود فتقول: أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدا رسول الله، أشهد أن محمدا رسول الله،حي على الصلاة، حي على الصلاة، حي على الفلاح، حي على الفلاح، الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابومحذورہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پربنفس نفیس اذان پیش کی فرمایا يوں کہو ااَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُ أَكْبَرُ،،أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ،أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ ،،پھر لوٹو تو کہوأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ،۲؎،حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ،حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ،اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ،لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہورصحابی ہیں،آپ کا نامسَمُرَہیااَوْس،یاسلمان،یا سلمٰے ہے،اپنی کنیت میں مشہورہوئے۔ان کے باقی حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔
۲
؎اس کا نام ترجیع ہے،یعنی اذان میں شہادتیں پہلے آہستہ دوبارکہنا،پھربلند آوازسے دوبارکہنایہ شوافع کے ہاں سنت ہے،حنفیوں کے نزدیک نہیں،دلائل ابھی آتے ہیں۔
۳
؎یہ حدیث وہابیوں کی انتہائی دلیل ہے کہ اذان میں ترجیع ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں عبداللہ ابن زیدکے خواب میں جو فرشتے نے اذان کی تعلیم دی اس میں ترجیع نہ تھی،نیزخودعبداللہ ابن زیدنے جب وہ خواب بارگاہ نبوی میں پیش کی اس میں بھی ترجیع نہ تھی،نیزحضرت بلال جوامام المؤذنین ہیں ان کی اذان میں ترجیع منقول نہیں،نیزعبداللہ ابن ام مکتوم جومسجدنبوی شریف کے نائب مؤذن تھے ان کی اذان میں بھی ترجیع منقول نہیں،نیز حضرت سعدقُرظی مسجد قباء کے مؤذن کی اذان میں بھی ترجیع منقول نہیں۔رہی حدیث ابو محذورہ،ان کی روایت سخت متعارض ہیں،اوران میں اضطراب ہے،اورمضطرب ومتعارض حدیث قابل عمل نہیں۔چنانچہ طبرانی نے انہیں ابومحذورہ سے جواذان نقل کی اس میں ترجیع نہیں۔طحاوی شریف نے ابومحذورہ کی اذان میں دوبارالله اكبرکا ذکرکیااوریہاں ترجیع کا بھی ذکرہے،نیزصحابۂ کرام نے ابومحذورہ کی روایت پر عمل نہ کیا،چنانچہ حضرت علی،حضرت بلال،حضرت ثوبان،حضرت سلمہ ابن اکوع وغیرہم رضی اللہ عنہم اذان وتکبیر کے کلمات دو۲دو۲بار کہتے اورکہلواتے تھے۔عنایہ شرح ہدایہ نے فرمایا کہ حضرت ابومحذورہ کو زمانۂ کفر میں توحیدورسالت سے سخت نفرت تھی،اسلام کے بعدانہیں اذان کا حکم ملا تو یہ شرم کی وجہ سے شہادتین آہستہ کہہ گئے تب حضورنے فرمایا کہ پھرزورسے کہو۔فتح القدیر نے فرمایا کہ حضرت ابومحذورہ شہادتین میں مدچھوڑگئے تھے،اس لئے یہ کلمات دوبارہ کہلوائے گئے۔ہماری تفسیرکی بناء پرحضرت ابومحذورہ کی حدیث میں نہ تعارض ہوگا نہ اضطراب کیونکہ ترجیع والی روایات میں خصوصی واقعہ کا ذکر ہے اور دیگرروایات میں عام حالات کا۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "جاء الحق"حصہ دوم میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 642