Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2237

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "سَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ، فَإِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ أَنْ يُسْأَلَ، وَأَفْضَلُ الْعِبَادَةِ انْتِظَارُ الْفَرَجِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "سلوا الله من فضله، فإن الله يحب أن يسأل، وأفضل العبادة انتظار الفرج". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نےتعالٰی سے اس کا فضل مانگو ۱؎کہتعالٰی مانگنے کو پسند فرماتا ہے ۲؎اور بہترین عبادت کشائش کا انتظار ہے۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کا عدل نہ مانگو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے عدل وہ ہے جو کام کے عوض دیا جائے فضل وہ ہے جو بلا معاوضہ محض مہربانی سے دیا جائے۔اگر رب تعالٰی عدل فرمائے تو ہم گنہگار بڑی سزا کے مستحق ہیں فضل فرمائے اور بخش دے تو اس کی مہربانی ہے۔مِنْفرما کر یہ بتلایا کہ اس کا بعض فضل مانگو نہ کہ سارا کیونکہ اس کا فضل غیر متناہی ہے اور تمہاری جھولی متناہی،پیالی والا سارا سمندر سمیٹنے کی کوشش نہ کرے۔
۲
؎عجیب بارگاہ بے نیاز ہے دوسرے سخی مانگنے والوں سے گھبرا جاتے ہیں رب تعالٰی وہ کریم ہے کہ مانگنے والوں سے خوش ہوتا ہے۔ہر دل کے ساتھ اس کا نیا راز ہے اور اس کے دروازے پر ہر بھکاری کا نیا ناز وا نداز۔شعر
اے کہ باہر دل ترا رازے دگر ہر گدا را بردرت نازے دگر
۳
؎یعنی گرفتار بلاشکایتیں نہ کرتا پھرے بلکہ اس کی مہربانی کا انتظار رکھے،وہاں آس والے کی آس توڑی نہیں جاتی۔خیال رہے کہ کسی سے دوا یا دعا کی درخواست کرنا شکایت نہیں اور نہ یہ اس انتظار کے خلاف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2237