Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2241

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اُدْعُوا اللّٰهَ وَأَنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالإِجَابَةِ، وَاعْلَمُوْا أَنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتجِيْبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة، واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ سے دعا کرو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے ۱؎اور جان رکھو کہ اللہ غافل و لاپرواہ کی دعا قبول نہیں فرماتا ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دعا کرتے وقت یہ یقین کرلو کہ رب تعالٰی اپنے کرم سے میر ی یہ دعا ضرور قبول کرے گا اس میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ دعا کے وقت تمام شرائط قبول اور آداب دعا پورے کرو جس سے تمہارے دل کو قبولیت کا یقین خود بخود ہو جائے پھر ساتھ ہی اس کے کرم سے امید رکھو اللہ تعالٰی آس والوں کو نا امید نہیں فرماتا اس کا نام ہےرجاء السائلین۔(از مرقات و لمعات)
۲
؎قبولیت دعا کی بہت سی شرطیں ہیں،جن میں سے بڑی اہم شرط دل لگنا ہے اسی لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دعا مانگنے کے وقت دل اور طرف ہو منہ اور طرف ہاتھ رب تعالٰی کی بارگاہ میں پھیلے ہوں،خیال بازار وغیرہ میں ہو تو دعا قبول نہیں ہوتی۔قبولیت دعا اس شرط سے ہے کہ ہاتھ،زبان،دل دھیان سب کا مرکز ایک ہی یعنی بارگاہ الہٰی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2241