Main Icon

باب:دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2244

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيْمٌ يَسْتَحْيِيْ مِنْ عَبْدِهٖ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ".

وعن سلمان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن ربكم حيي كريم يستحيي من عبده إذا رفع يديه إليه أن يردهما صفرا". رواه الترمذي وأبو داود والبيهقي في "الدعوات الكبير".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تمہارا رب حیاء والا ہے کرم والا ہے اس سے حیاء فرماتا ہے کہ بندہ اس کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے وہ انہیں خالی لوٹا دے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،بیہقی دعوات الکبیر)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں ہاتھ پھیلانے کی حکمت کا بیان ہےان شاءاللهپھیلے ہوئے ہاتھ رب کی بارگاہ سے خالی نہیں لوٹیں گے ۔خیال رہے کہ رب تعالٰی حیاء شرم وغیرہ کے ظاہری معنے سے پاک ہے اس کے لیے ان چیزوں کا نتیجہ مراد ہوتا ہے یعنی اللہ تعالٰی ایسا کرتا نہیں کہ بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھوں کو خالی پھیرے اس کے معنے ہم عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالٰی مانگنے والے کو ضرور دیتا ہے خواہ اس طرح کہ اس کی مراد پوری کردے یا اس طرح کہ اس کی کوئی آفت ٹال دے یا اس طرح کہ درجات بلند کردے،لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت دفعہ ہاتھ پھیلا کر دعائیں کی جاتی ہیں اور مراد نہیں ملتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2244